امامت و جماعت

تارکِ نمازِفجر شخص کی امامت کا حکم

فتوی نمبر :
65569
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

تارکِ نمازِفجر شخص کی امامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں حضرات علماءِ کرام ومفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1. ایک امام چار وقت کی نماز پڑھاتا ہے مثلاً ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء، مگر فجر کی نماز پڑھانے نہیں آتا اور اس کا جائے قیام بھی مسجد کے متصل ہے ۔
2. بعض قریبی ساتھیوں سے سنا گیا ہے کہ وہ فجر کی نماز جماعت سے نہیں پڑھتے، مگر منفرد ہو کر پڑھتے ہیں جبکہ رمضان المبارک کے ایام میں وہ امام فجر کی نماز پڑھانے آتے ہیں ۔
3. شاید امام صاحب فجرکی نماز پڑھتا ہی نہ ہو ، یا قضاء پڑھتا ہو ، واللہ اعلم ،کیونکہ امام صاحب صبح کو دس گیارہ بجے اٹھتا ہے اور یہ یقینی بات ہے، اور یہ ان کی فطری عادت بن چکی ہے ، جب امام سے کہا جاتا ہے کہ فجر کی نماز پڑھانے آیا کرو تو وہ فرماتے ہے میں اُٹھ نہیں سکتا۔
4. موصوف بہت سمجھدار ہے اور حافظِ قرآن بھی ہے اور قرأت بھی اس کی انتہائی صحیح ہے، لیکن عالم نہیں ہے ۔
عرض یہ کرنا ہے کہ موصوف کی امامت کرنا درست ہے یا نہیں ؟ اور مقتدیوں کے لۓ اس کی امامت میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ وضاحت فرما کر ممنون ہوں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شخصِ مذکور اگر واقعۃً فجر کے فرض کا تارک ہو تو اس کی وجہ سے وہ بہت سخت گناہ گار ہورہا ہے اور ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا مذکور شخص کو چاہیۓ کہ فجر کی نماز کا اہتمام کرے اور اب تک کے گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے، تاکہ اس کی اقتداء میں نماز بلا کراہت درست ادا ہو سکے ۔
تاہم بلاوجہ بدگمانی کرنے سے بھی احتراز اور انہیں نمازِ فجر سے پہلے مطلع کرنے کا اہتمام بھی کرنا چاہیۓ ۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي الدر المختار: (وتاركها عمدا مجانة) أي تكاسلا فاسق اھ(1/ 352)۔
وفی الفتاویٰ الهندیة: ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي. كذا في الخلاصة اھ (1/ 84)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65569کی تصدیق کریں
0     1326
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات