نمازِ تراویح کے لۓ اگر میں دیر سے آتا ہوں اور میں چار رکعت فرض ادا نہیں کر سکا ہوں، جبکہ امام صاحب نے تراویح شروع کر دی ہیں تو اگر میں امام کے ساتھ شامل ہو کر فرض کی نیت سے ادائیگی شروع کردوں اور جب امام تراویح مکمل کر لے تو میں کھڑا ہو جاؤں اور باقی بچی ہوئی نماز ادا کر لوں کیا ایسا کیا جا سکتا ہے؟
نہیں!تراویح پڑھنے والے کی اقتداء میں فرض نماز پڑھنا درست نہیں، لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ پہلے اپنی فرض وسنت نماز ادا کرے اس کے بعد امام کے ساتھ نماز تراویح میں شریک ہو جائے اور اس دوران جتنی رکعات تراویح کی باجماعت پڑھنے سے نکل گئی ہوں امام کے بیس رکعات پورا کرنے کے بعد سائل ، وتر بھی امام کے ساتھ باجماعت پڑھے پھر ان بقیہ رکعاتِ تراویح کو پڑھے۔
ففی الدر المختار: (ولا يصح اقتداء رجل بامرأة) (إلی قوله) (و) لا (مفترض بمتنفل وبمفترض فرضا آخر) لأن اتحاد الصلاتين شرط عندنا اھ (1/ 579)۔
وفی الفتاویٰ الهندية: ولا إقتداء المفترض بالمتنفل اھ (۸۶/۱)۔