السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سلام کے بعد گذارش ہے کہ ہمارے علاقے ضیاء کالونی نمبر۱ میں مدرسہ "جامعہ قاسمیہ امدادیہ" قائم ہے، جس میں حفظ و ناظرہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور اسی میں ہی طلباء اور اہلِ محلہ نماز بھی پڑھتے ہیں تقریباً تین صفیں بن جاتی ہیں اور اس مدرسے تین یا چار گلیاں دور مسجدیں ہیں، جس کی وجہ ہم مدرسے میں ہی نماز با جماعت ادا کرتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ اگر طلباء نماز پڑھنے مسجد جائیں تو تعلیمی اوقات ضائع ہو جاتے ہیں اور اسی مدرسے سے اہلِ محلہ نماز کی پابند ہوگئی ہے اور ہمارے محلے میں مسجد کے امام نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ آپ کی نمازیں اس مدرسے میں نہیں ہوتی اور آپ لوگوں کی نمازیں خراب کر رہے ہو ، جس کی وجہ سے ہم آپ سے مسئلہ پوچھنا چاہتے ہیں آیا کہ مسجد کے امام کا فتویٰ صحیح ہے یا نہیں ؟ برائے مہربانی آپ ہمیں مسئلے کا جواب دے کر اہلِ محلہ کو مطمئن کیجیۓ ؟ جزاکم اللہ خیراً
مذکور مدرسہ میں نماز پڑھنے والے افراد کی نماز اگرچہ ادا ہو جاتی ہے، مگر مسجد کا ثواب ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا ،اس لۓ تمام عوام کو چاہیۓ کہ مدرسے میں نماز پڑھنے کا معمول بنانے کی بجائے مسجد میں جاکر باجماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کریں ۔
فی صحيح مسلم: عن أبي الأحوص، قال: قال عبد الله: «لقد رأيتنا وما يتخلف عن الصلاة إلا منافق (إلی قوله) علمنا سنن الهدى، وإن من سنن الهدى الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه» اھ (1/ 453)۔
وفی الدر المختار: (والجماعة سنة مؤكدة للرجال) (إلی قوله)(وقيل واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا(إلی قوله) (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) اھ (1/ 554)۔