کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماءِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں! ایک سکول جو دیوبندیوں کے زیرِ کنٹرول ہے، لیکن وہاں ان کا ہیڈ ماسٹر غیر مقلد ہے، ہیڈ ماسٹر عالم ہے، وہاں پر وہ عصر کی نماز مثلِ اوّل میں پڑھتا ہے، کیونکہ جو دیوبندی ماسٹر ہیں ان کو بھی اس کے پیچھے نماز پڑنی پڑھتی ہے تو کیا وہ اس کے پیچھے عصر کی نماز یا کوئی بھی نماز مثلاً اوّل وقت میں اس کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں، فقہ حنفی اور فقہ شافعی کی رو سے وضاحت فرمائیں، کیا اس امام کے اقتداء کی جاسکتی ہے یا نہیں؟
مذکور امام موصوف اگر متشدد نہ ہو اور مسائل طہارت وصلاۃ میں حنفی المسلک مقتدیوں کی رعایت رکھتا ہو تو اس کی اقتدار میں نماز پڑھنا جائز ہے، مگر اس کو چاہیۓ کہ اختلافی وقت میں نماز پڑھنے کی بجائے یقینی وقت میں نماز کا اہتمام کرے تا کہ سب کی نماز بلاشبہ درست ادا ہو، جبکہ مثلِ اوّل میں نماز پرھنا غیر مقلدین اور شوافع کے ہاں بھی واجب نہیں، بلکہ فی نفسہ جائز اور مستحب ہے۔
فی الدر المختار: (ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والأئمة الثلاثة. قال الإمام الطحاوي: وبه نأخذ اھ (1/ 359)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: إلى بلوغ الظل مثليه) هذا ظاهر الرواية عن الإمام نهاية، وهو الصحيح بدائع ومحيط وينابيع، وهو المختار غياثية اھ (1/ 359)۔