السلام علیکم
مفتی صاحب میرا سوال کمیٹی کے حوالے سے ہے ، پہلی بات یہ کہ کیا کمیٹی ڈالنا دینِ اسلام میں جائز ہے ؟ اور دوسری بات یہ کہ کیا اس کمیٹی سے ملنی والی رقم سے میں عمرہ ادا کر سکتا ہوں ؟ جبکہ کمیٹی میں میرا نمبر 50 میں سے 12ہے ،کیا کمیٹی ملتے ہی میں عمرہ ادا کر سکتا ہوں انہی پیسوں سے ؟ جبکہ ایک طرح سے سوچا جائے تو یہ قرض کی ایک قسم ہوئی کیونکہ ابھی 50 کی 50 کمیٹیاں مکمل نہیں ہوئیں ۔
کمیٹی ڈالنا شرعاً جائز ہے ،بشرطیکہ کمیٹی میں تمام شرکاء جتنی رقم جمع کرائیں ،انہیں اتنی ہی رقم واپس دی جائے،کمی بیشی نہ کی جائے،جبکہ کمیٹی نکل آنے کی صورت میں بقیہ اقساط کی ادائیگی سے قبل اس رقم سے عمرہ کرنا بھی شرعاً جائزاور درست ہے۔
کما فی بدائع الصنائع : و أما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال ، و ثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال اھ(7/396)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0