امامت و جماعت

مالکی مقتدی کا حنفی امام کی اقتداء کرنا

فتوی نمبر :
65411
| تاریخ :
2018-08-20
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مالکی مقتدی کا حنفی امام کی اقتداء کرنا

کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی مالکی کسی ایسے ملک میں ہو جہاں امام ابوحنیفہؒ یا امام شافعیؒ کے پیروکار زیادہ ہوں تو کیا اس مالکی کے لۓ جائز ہے کہ ایسے امام کے پیچھے جو حنفی مسلک کاپیروکار ہو،امام ابوحنیفہ ؒ کے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے امام کی اقتداء کرے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حنفی یا شافعی امام اگر اختلافی مسائل میں اپنے مقتدیوں کی رعایت کرتا ہو تو اس کی اقتداء میں دیگر مذاہب کے لوگوں کا نماز پڑھنا بلاشبہ جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع اھ(1/ 563)۔
وفي الفتاوى الهندية: (الفصل الثالث في بيان من يصلح إماما لغيره) والاقتداء بشافعي المذهب إنما يصح إذا كان الإمام يتحامى مواضع الخلاف بأن يتوضأ من الخارج النجس من غير السبيلين كالفصد وأن لا ينحرف عن القبلة انحرافا فاحشا. هكذا في النهاية والكفاية في باب الوتر اھ(1/ 84)۔
وفي الدر المختار: وكذا تكره خلف أمرد (إلى قوله ) ومخالف كشافعى، لكن في وتر البحر إن تيقن المراعاة لم يكره، أو عدمها لم يصح، وإن شك كره اھ(1/ 563)۔
وفى حاشية ابن عابدين: مطلب في الاقتداء بشافعي ونحوه هل يكره أم لا؟ (إلی قوله) وبحث المحشي أنه إن علم أنه راعى في الفروض والواجبات والسنن فلا كراهة، وإن علم تركها في الثلاثة لم يصح، وإن لم يدر شيئا كره (1/ 563)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65411کی تصدیق کریں
0     760
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات