کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلہ میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، تراویح کے بعد اس کی نمازِ جنازہ تھی، محلہ کے امام صاحب نے جنازہ میں شرکت کی ترغیب دی ، اس سے متاثر ہو کر تقریباً سب ہی لوگ شریک ہو گئے، جب جنازہ لا یا گیا تو اس وقت بعض لوگ وضو بنانے چلے گئے اور امام صاحب سے کہا گیا کہ نماز پڑھانے میں تھوڑی دیر وقفہ کر یں، تاکہ لوگ وضو بنا کر شریک ہو جائیں، تو امام صاحب جو حالیہ دنوں ایک دینی مدرسے سے سندِ فراغت حاصل کر چکے ہیں ، انہوں نے بھرے مجمعے میں فرمایا کہ نمازِ جنازہ میں شریک افراد میں سے اگر اکثریت کاوضو ہو تو باقی لوگوں کا بغیر وضو کے بھی جنازہ درست ادا ہو جائے گا۔
امام صاحب کے اس مسئلہ سے لوگ تر دد میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اس کے متعلق مختلف قسم کی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں، آپ حضرات سے التماس ہے کہ اس مسئلہ میں ہماری راہ نمائی فرمائیں کہ امام صاحب موصوف کا بیان کردہ مسئلہ درست ہے ؟ براہِ کرم جلد از جلد جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔
پنج وقتہ نمازوں کی طرح نمازِ جنازہ کے لۓ بھی طہارت شرط ہے، بغیر طہارت کے نمازِ جنازہ ادا کر نا درست نہیں، اس لۓ یہ کہنا کہ جنازہ کے شرکاء میں سے اکثریت کے باوضو ہونے سے باقی لوگوں کی بغیر وضو کے بھی نماز ادا ہو جاتی ہے، شرعاً درست نہیں، بلاتحقیق ایسے غلط مسائل بیان کرنے سے احتراز م لازم ہے۔
فی حاشية ابن عابدين: وأما الشروط التي ترجع إلى المصلي فهي شروط بقية الصلوات من الطهارة الحقيقية بدنا وثوبا ومكانا والحكمية وستر العورة والاستقبال والنية سوى الوقت اھ (2/ 207)۔