امامت و جماعت

گاؤں ’’تھاتھی کلاں‘‘ کے امامِ مسجد کی تلاوت کا حکم

فتوی نمبر :
65316
| تاریخ :
2020-10-08
عبادات / نماز / امامت و جماعت

گاؤں ’’تھاتھی کلاں‘‘ کے امامِ مسجد کی تلاوت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ضلع مانسہرہ کے گاؤں ’’ تھا تھی کلاں‘‘ کی مسجد میں مولوی محمد ریاض صاحب عرصہ چالیس سال سے امامت کر وار ہے ہیں ، اب کچھ عرصہ پہلے یہاں ایک مدرسہ قائم ہوا ہے اور وہاں کے قاری صاحب ( جو کہ عالم بھی نہیں ہیں) نے امام صاحب موصوف کے پیچھے نماز پڑھنے کے بعد کہا کہ مذکور امام صاحب کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، اس لۓ کہ ان کی قراءت میں تجویدی غلطیاں پائی جاتیں ہیں، جس پر تمام نمازی پریشان ہیں اور اپنی گزشتہ پڑھی ہوئی نمازوں کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔
لہٰذا ہم اپنے امام صاحب مولوی محمد ریاض صاحب کی پڑھی گئی " سورۃ فاتحہ " اور " سورۃ الضحی " پر مشتمل ویڈیو ریکارڈنگ جو کہ ہمارے پاس موجو دہے آپ کو بھیج رہے ہیں، آپ حضرات اسے سُن کر ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم صادر فرمادیں ، اگر نماز یں درست نہیں ہوئیں تو ہماری گزشتہ چالیس سال کی نمازوں کا کیا حکم ہو گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور امام مولوی محمد ریاض صاحب موصوف کی تلاوت کر دہ "سورۃ فاتحہ" اور "سورۃ الضحی" کی ویڈیو ریکارڈنگ سنی گئی ، اگر چہ مشّاق قاریوں جیسی نہیں، مگر اس میں ایسی کوئی فحش غلطی نہیں پائی گئی جس کی وجہ سے ان کی اقتداء میں پڑھی جانے والی نمازوں کے بارے میں فساد کا حکم لگایا جاسکے ، اس لۓ مذکور امام صاحب موصوف کے پیچھے عوام کی اب تک پڑھی گئی نماز یں درست ادا ہو گئی ہیں اور آئندہ بھی وہ امامت کروا سکتے ہیں ، سوال میں مذکور مدرسہ کے قاری صاحب موصوف کا جو باضابطہ عالم اور مفتی بھی نہیں یہ کہنا کہ "ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی" قطعاً غلط ہے، ان کو چاہیۓ کہ بلا تحقیق مسائل بتا کر مسلمانوں کو عبادات کے اندر شکوک میں ڈالنے اور پریشان کرنے سے احتراز کر یں ، البتہ امام صاحب موصوف کو چاہیۓ کہ کسی مشاق قاری سے کچھ دن مشق کریں، تا کہ تجویدی غلطیاں دور ہو سکیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

في الدر المختار: ومنها القراءة بالألحان إن غير المعنى وإلا لا إلا في حرف مد و لين إذا فحش وإلا لا بزازية، ومنها زلة القارئ فلو في إعراب أو تخفيف مشدد وعكسه، أو بزيادة حرف فاكثر (إلى قوله) لم تفسد وان غير المعنى وبه يفتی اھ (1/ 631)۔
وفى رد المحتار : تحت ( قوله ومنها زلة القارى ) وأما المتأخرون (إلى قوله) فاتفقوا على أن الخطأ في الإعراب لا يفسد مطلقا ولو اعتقاده كفرا لأن أكثر الناس لا يميزون بين وجوه الإعراب. قال قاضي خان: وما قال المتأخرون أوسع، وما قاله المتقدمون أحوط؛ وإن كان الخطأ بإبدال حرف بحرف، فإن أمكن الفصل بينهما بلا كلفة كالصاد مع الطاء بأن قرأ الطالحات مكان الصالحات فاتفقوا على أنه مفسد، وإن لم يمكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين فأكثرهم على عدم الفساد لعموم البلوى اھ (1/ 631)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65316کی تصدیق کریں
0     656
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات