کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد کے متصل مدرسہ کا ایک پلاٹ تھا، اب مسجد کی از سر نو تعمیر کرائی گئی ، اور مدرسہ کی تعمیر کے وقت اب وہ مدرسہ کا پلاٹ بھی مسجد کا حصہ بنایا گیا ہے اور اب مدرسہ کے پلاٹ کو مسجد سے ملانے کی وجہ سے مسجد کا منبر ومحراب مسجد کے درمیان میں نہیں رہا۔
(ا) تو محراب کو مسجد کے درمیان میں رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(۲) اس طرح اگر امام محراب میں کھڑا ہونے کی وجہ سے درمیان میں نہ رہے ،جبکہ یہ صورت بن گئی ہے تو آیا نماز پر کچھ اثر پڑے گا یا نہیں؟
(۳) اور مدرسے کا جو پلاٹ مسجد میں شامل کیا گیا ہے اور وہاں صفیں بھی بنا دی گئی ہیں اس کے متصل ایک سیڑھی مسجد کی دوسری چھت کی طرف گئی ہے، دورانِ اعتکاف معتکف کے لۓ اس سیڑھی کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ اور اگر نیچے مسجد کے ہال میں صفیں پوری نہ ہوں، ابھی جگہ باقی ہو تو اس صورت میں معتکفین کا اوپر گیلری میں جماعت کے ساتھ شرکت کا کیا حکم ہے؟ گیلری میں جانے کے لۓ سیڑھیاں مین گیٹ کے اوپر سے گئی ہیں۔
محراب کا صف کے درمیان ہونا اور امام کا وسطِ صف میں کھڑا ہونا مسنون ہے اور قصداً اس کے خلاف کرنا مکروہ اور حدیث شریف ’’توسطوا الامام وسدّوا الخلل‘‘ کے خلاف ہے، اس لۓ صورتِ مسئولہ میں مذکور جگہ جو مدرسہ کا حصہ تھی، اگر مسجد کی منتظمہ کمیٹی نے باہمی اتفاق سے اس کو مسجد میں شامل کر کے اس کا حصہ بنا لیا ہو تو ایسی صورت میں امام کا مصلیٰ محراب کی بجائے ایسی جگہ بچھانے کا اہتمام کرنا چاہیۓ جس سے وہ درمیان صف میں آئے، تاہم اگر اس جگہ لوگوں کے کھڑے ہونے سے ایک جانب صف زیادہ ہونے کے باوجود امام نے نماز پڑھائی تو نماز درست ادا ہو جائے گی۔
مدرسہ کے جس پلاٹ کو باضابطہ مسجد کا حصہ بنا گیا ، اس میں سے جو سیڑ ھیاں بالائی منزل کی طرف جاتی ہیں اس کے دونوں سرے مسجد کے اندرونی حصہ سے جاتے ہیں اور سیڑھیوں کے نیچے کا جو حصہ ہے ، وہ بھی حدِ مسجد کے اندر ہے ، اس لۓ معتکف کا اس سیڑھی کے ذریعہ بالائی منزل پر جانا جائز ہے، نیچے جگہ ہو یانہ ہو، اور اس سے اعتکاف بھی نہیں ٹوٹے گا ، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ نیچے جگہ ہونے کی صورت میں نماز اُوپر نہ پڑھی جائے۔
فی حاشية ابن عابدين: (قوله ويقف وسطا) قال في المعراج: وفي مبسوط بكر: السنة أن يقوم في المحراب ليعتدل الطرفان، ولو قام في أحد جانبي الصف يكره، ولو كان المسجد الصيفي بجنب الشتوي وامتلأ المسجد يقوم الإمام في جانب الحائط ليستوي القوم من جانبيه والأصح ما روي عن أبي حنيفة أنه قال: أكره أن يقوم بين الساريتين أو في زاوية أو في ناحية المسجد أو إلى سارية لأنه خلاف عمل الأمة. قال - عليه الصلاة والسلام - «توسطوا الإمام وسدوا الخلل» ومتى استوى جانباه يقوم عن يمين الإمام إن أمكنه وإن وجد في الصف فرجة سدها وإلا انتظر حتى يجيء آخر فيقفان خلفه، وإن لم يجئ حتى ركع الإمام يختار أعلم الناس بهذه المسألة فيجذبه ويقفان خلفه، ولو لم يجد عالما يقف خلف الصف بحذاء الإمام للضرورة، ولو وقف منفردا بغير عذر تصح صلاته عندنا خلافا لأحمد. اهـ. مطلب في كراهة قيام الإمام في غير المحراب [تنبيه] يفهم من قوله أو إلى سارية كراهة قيام الإمام في غير المحراب، ويؤيده قوله قبله السنة أن يقوم في المحراب، وكذا قوله في موضع آخر: السنة أن يقوم الإمام إزاء وسط الصف، ألا ترى أن المحاريب ما نصبت إلا وسط المساجد وهي قد عينت لمقام الإمام اهـ. والظاهر أن هذا في الإمام الراتب لجماعة كثيرة لئلا يلزم عدم قيامه في الوسط، فلو لم يلزم ذلك لا يكره تأمل اھ(1/ 568)۔
و في الدر المختار: ( وحرم عليه ) أي على المعتكف (الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر (أو) شرعية كعيد وأذان لو مؤذنا وباب المنارة خارج المسجد اھ(2/ 445)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله وباب المنارة خارج المسجد) أما إذا كان داخله فكذلك بالأولى قال في البحر: وصعود المئذنة إن كان بابها في المسجد لا يفسد وإلا فكذلك في ظاهر الرواية اهـ ولو قال الشارح وأذان ولو غير مؤذن وباب المنارة خارج المسجد لكان أولى ح. قلت: بل ظاهر البدائع أن الأذان أيضا غير شرط فإنه قال: ولو صعد المنارة لم يفسد بلا خلاف وإن كان بابها خارج المسجد لأنها منه لأنه يمنع فيها من كل ما يمنع فيه من البول ونحوه فأشبه زاوية من زوايا المسجد اهـ لكن ينبغي فيما إذا كان بابها خارج المسجد أن يقيد بما إذا خرج للأذان لأن المنارة وإن كانت من المسجد، لكن خروجه إلى بابها لا للأذان خروج منه بلا عذر وبهذا لا يكون كلام الشارح مفرعا على الضعيف ويكون قوله وباب المنارة إلخ جملة حالية معتبرة المفهوم فافهم اھ(2/ 445،446)۔