ایک مسئلہ پوچھنا تھاکہ اگر گاڑی کی انشورنس کی بات ہو رہی ہے ریکارڈ شدہ کال ہے ،بس ہمیں وہ کال سننے کے بعد کچھ آپشنز دیے ہوئے ہوتی ہیں ،ہمیں ان میں سے صحیح انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ کیا اپائنٹمنٹ سیٹ ہوئی ہے یا نہیں ، انشورنس کی کال کم ہی آتی ہے ،زیادہ تر سروس یا سیل پرچیز (buy/ sell) کی ہوتی ہے، توکیا یہ کام کرنا حرام تو نہیں ہو گا؟ کیوں کے میں نے سنا تھا کہ انشورنس حرام ہے ، تو کیا اس کی call سننا بھی حرام ہوگی؟ کیوں کہ ہیں بس کال سن کر صحیح آپشن پر کلک کرنا ہوتا ہے ،ہمیں کچھ بولنا نہیں ہوتا ،ہم 2 بندوں کی جو کال پے بات ہو رہی ہوتی ہے، اس کی ریکارڈنگ سننی ہوتی ہے بس، اور آخر میں بتانا ہوتا ہے کہ کیا جو بندہ بات کر رہا تھا وہ صحیح سے بات کر رہا تھا یا نہیں، اور کیا دونوں کی ملاقات طے ہوئی ہے یا نہیں، بس اتنا سا کام ہوتا ہے، اور اس کے ہمیں پیسے ملتے ہیں محنت لگتی ہے ،اچھی خاصی انگلش میں کالز ہوتی ہیں، اس لیے ہم کچھ بھی نہیں بولتے، ہمارا کام صرف سننا ہے نہ ہی ہم اسے insurance کے لئے مناتا ہیں ہم صرف اور صرف سنتے ہیں بس۔
سائل جس ادارے کے ساتھ کام کر رہا ہے ،اگر سائل کا اس ادارے میں اصل کام بیع و شراء کی کال سن کر ادارے کو متعاقدین کے بارے میں اطلاع دینا ہو ،اور اکثر و بیشتر یہی کام سائل سر انجام دیتا ہو ،تو سائل کیلئے مذکور کام پر اجرت (تنخواہ ) لینا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
البتہ اگر انشورنس کی کال سن کر اس کے بارے میں سائل اس ادارہ کو معلومات فراہم کرے ،اور اس کی بنیاد پر کمپنی انشورنس کا معاملہ کرے ،تو یہ عمل شرعاً جائز نہیں ،اور اس پر ملنے والی اجرت (تنخواہ ) لینا بھی حلال نہ ہوگی ،لہٰذا مذکور کام کے عوض جتنی رقم ملے ،اتنی رقم صدقہ کرنا سائل پر لازم ہے ،تاہم اگر انشورنس کی کال سننے اور اس معاملہ میں واسطہ بننے سے بچنا ممکن ہو تو سائل کو ہر ممکن کوشش کرکے اس سے بچنا چاہیئے ۔
قال اللہ تعالیٰ : الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ أَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَ مَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (البقرہ:275)۔
و فی تکملۃ فتح الملھم : ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز ، فان کان عمل المؤظف فی البنک ما یعین علی الربا ،کالکتابۃ او الحساب ، فذالک حرام لوجھین الاول اعانۃ علی المعصیۃ و الثانی اخذ الاجرۃ من مال الحرام ، فان معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا ،و اما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فانہ حرام لوجہ الثانی فحسب ، فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال ، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال و اللہ اعلم اھ(1/619)۔
و فی الاشباہ و النظائر للسیوطی :[الْقَاعِدَةُ الرَّابِعَة : إذَا تَعَارَضَ مَفْسَدَتَانِ رُوعِيَ أَعْظَمُهُمَا ضَرَرًا بِارْتِكَابِ أَخَفِّهِمَا]وَ نَشَأَ مِنْ ذَلِكَ قَاعِدَةٌ رَابِعَةٌ:هِيَ " إذَا تَعَارَضَ مَفْسَدَتَانِ رُوعِيَ أَعْظَمُهُمَا ضَرَرًا بِارْتِكَابِ أَخَفِّهِمَا ". اھ (87)-
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0