جناب مفتی صاحب السلام علیکم! میں ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میرا بھائی قومی بچت مرکز (نیشنل سیونگ) میں بطور جونئیر نیشنل سیونگ آفیسر ملازمت کرتا ہے اور حکومت پاکستان کے بجٹ سے تنخواہ وصول کرتا ہے، اور کاؤنٹر پر پبلک کو ڈیل کرتا ہے ، جس میں سیونگ سرٹیفکیٹ کا اجراء و واپسی ، منافع کا حساب کتاب وغیرہ بھی شامل ہے ، اسکے علاوہ اس نے پرائز بانڈ کے انعام سے کچھ سرمایہ بھی حاصل کیا ہے ، برائے مہربانی بتائیں کہ کیاقومی بچت سے حاصل کردہ تنخواہ جائز ہے یا نہیں ? اور اس صورت میں ملازمت جاری رکھنی چاہیئے یا نہیں ؟ نیز پرائز بانڈ والے معاملہ کا بھی جواب دیں ، دونوں سوالوں کا جواب دیں۔جزاک اللہ خیراً
ہماری معلومات کے مطابق قومی بچت (یعنی نیشنل سیونگ)ادارے کے معاملات چونکہ سود پر مبنی ہوتے ہیں ، اس لئےسائل کے بھائی کا قومی بچت (یعنی نیشنل سیونگ)ادارے میں بطورِ" جونیئر نیشنل سیونگ آفیسر"ملازمت کرنا اس طور پر کہ اسکے ذمہ"سیونگ سرٹیفکیٹ" کا اجراء و واپسی اور منافع کا حساب و کتاب وغیرہ رکھنا ہو جائز نہیں،لہٰذا سائل کے بھائی کو چاہیئے کہ مذکور ملازمت کے بجائے کوئی اورحلال ذریعۂ آمدن تلاش کرے۔
جبکہ انعامی بانڈز ( پر ائر بانڈز) کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی ، بلکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دی جاتی ہے در حقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے ، اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے ، اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر پرائز بانڈ والے شخص سے اس کے دیے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ ان میں انعام ضرور تقسیم کر یگی ، اگر وہ ایسانہ کرے تو انعامی بانڈ رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے ، بلکہ وہ بذریعۂ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے ، چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈ ز کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈز کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لئے کوئی مدت متعین نہیں جب چاہیں لے سکتے ہیں۔
اب یہ بھی سمجھ لیجئے کہ بانڈز رکھنے والے کو بصورتِ انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اس قرض کی بناء پر ملتا ہے جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز (پرائز بانڈز ) رکھنے والوں سے مشروط ہے ، اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث و فقہ کی روشنی میں بلاشبہ ناجائز اور سود ہے، اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا نا جائز اور حرام ہے ، جتنے روپے کا انعامی بانڈ (پرائز بانڈز ) ہے اس قدر رقم واپس لے سکتے ہیں زائد نہیں ، اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈ پر ملنے والے انعام رقم حاصل کرلی ہو تو اتنی رقم کے بانڈ ز لیکر جلادے یا پھاڑ کر ضائع کر دے تاکہ حکومت کو سود کی رقم واپس پہنچ جائے ، کیونکہ اس رقم کا اصل حکم یہی ہے کہ جس کی ہے اس کو واپس کر دے اور جب اصل مالک کو لوٹانا مشکل ہو تو بلانیتِ ثواب کسی مستحقِ زکوٰۃ کو مالک و قابض بنا کر دیدے۔
كما فى الدرالمختار : و فى الاشباه كل قرض جر نفعاً فهو حرام فكره ۔ اهـ (5/166)۔
و في فقه البيوع : و ان هذا السندات تباعا فى السوق و تشترى بمثن يتراضى عليه الطرفان ، و هو يبيعه فى السوق بمائة و خمسة ليحصل المشترى على مائة و عشرة عند الاداء و لاشك ان هذه معاملات ربوية محرمة شرعاً ،(الی قوله) أما عند الحنفية و الحنابلة ، فلا يجوز ذلك و لو بمثل قيمتها الاسمية لانه بيع الدين من غير من هو عليه الخ (354/1)۔
و فى فقه البيوع : و قد زعم بعض المعاصرين جواز مثل هذه الجوائز على اساس ان الحكومة لا تشترط اعطاء زيادة لاحد من المقرضين حاملي السند فالعقد مع كل واحد من حملة السند عقد قرض بدون فائدة ثم انها تعطى الجوائز تبرعاً على أساس القرعة فلا يلزم منه الربوا و لكن هذا الاستدلال غير صحيح اما الاول فلان الحكومة تلتزم بتوزيع الجوائز على حملة السند فالزيادة على مبلغ القرض ان لم تكن مشروطة لكل واحد من المقرضين فانها مشروطة تجاه مجموعة المقرضين ۔ اھ (356/1)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0