سوال میں نے اپنی پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسرا نکاح چوری چھپے کر لیا , دوسری بیوی نے بھی اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر میرے ساتھ نکاح کیاتھا , ہم نے نکاح کورٹ میں کیا تھا , کچھ عرصہ ہمارا تعلق رہا , ہم چوری چھپے ملتے رہے , کچھ عرصہ کے بعد میری پہلی بیوی کے گھر والوں کو پتہ چل گیا کہ میں نے دوسرا نکاح کیا ہوا ہے , تو انہوں نے کافی دباؤ ڈال کر بند کمرے میں زبردستی مجھ سے طلاق نامہ لکھوا لیا (طلاق نامہ میں 3 بار طلاق کا ذکر ہے) جبکہ میری دوسری بیوی اور میں نے اس طلاق نامہ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے , دوسرے دن ہی رجوع کرلیا تھا , اب گھریلو مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے ہم آپس میں جدا ہوگئے ہیں , میرے سوال یہ ہیں کہ
1۔ کیا ہمارا نکاح جائز تھا ؟ (کیونکہ میں نے کہیں یہ پڑھا ہے کہ لڑکی اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح فاسد ہے)-
2۔ اگر جائز تھا تو کیا طلاق ہو چکی ہے؟ (طلاق نامہ میں 3 بار طلاق کا ذکر ہے)جبکہ میں نے طلاق نامہ کے دوسرے دن حقوقِ زوجیت ادا کیے تھے -
3۔ اگر طلاق ہو چکی ہے تو میں دوبارہ رجوع کیسے کر سکتا ہوں ؟(یاد رہے میں نے زبانی طور پر لڑکی کو طلاق نہیں دی نہ ہی ارادہ کیا کہ میں اسے طلاق دوں)-
سائل کا دوسرا نکاح باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ہوا ہو تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکا تھا ،البتہ لڑکا اور لڑکی کا اس طرح گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرنا بڑا بے شرمی والا عمل ہے ، جو کہ شریف خاندانوں میں انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے ، تاہم جب سائل نے تین طلاقوں والے طلاق نامہ پر دستخط کردیے تو اس سے سائل کی دوسری بیوی پر اس طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی تھی ، جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ لڑکی عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، البتہ طلاق نامہ پر دستخط کے بعد سائل کا دوسری بیوی سے ہمبستری کرنا حرام کاری کا ارتکاب تھا , جس کی وجہ سے دونوں گناہ گار ہوئے ہیں ، دونوں پر لازم ہے کہ اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایک دوسرے سے ملنے سے اجتناب کریں -