میرے شوہر نے مجھے غصے کی حالت میں میسج بھیجا ”میں تمہیں آزاد کر رہاہوں اس رشتے سے " دو تین علماءِ کرام سے پوچھنے کےبعد یہ بتایا گیا ہے کہ میرے شوہر نے مجھے طلاقِ بائن دیدی ہے، جس میں رجوع کیا جا سکتا ہے، واپس نیا نکاح کر کے، پرانا حق مہر ادا کیا جائے پہلے، اس میں کیاتعلیمات ہیں اسلام کی ؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ شوہر نے غصے کی حالت میں بیوی کو مذ کور الفاظ " میں تمہیں آزاد کر رہا ہوں اس رشتے سے “بذریعہ میسج لکھ کر بھیج دیے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے ، جسکے بعد شوہر کو عدت کے دوران رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، چنانچہ شوہر نے اگر دوران عدت زبانی طور پر رجوع کر لیا ہویا عملا ًمیاں بیوی والے تعلقات قائم کر لیے ہوں یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چُھو لیا ہو تو اس سے رجوع ہو چکا تھا، البتہ اگر شوہرنے عدت کے دوران رجوع نہ کیا ہو تو عدت ختم ہونے پر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا تھا جس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنے کیلئے باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، بہر صورت آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔
كما في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (قوله حرام) ------- ولا شيء من الكناية يقع به الطلاق بلا نية أو دلالة الحال كما صرح به في البدائع، ويدل على ذلك ما ذكره البزازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي، حيث قال ما نصه: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ(3/298)
وفی الھدایة: وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها لأن الغضب يدل على إرادة الطلاق اھ(1/236)
وفی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.(1/470)