ایک خاتون کو رکعت بھولنے کا شدید مسئلہ ہے ہر نماز کے ساتھ ہی تقریباً یہ مسئلہ ہوتا ہے اس کے علاوہ تشہد پر بیٹھتے ہوئے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ کہیں پہلی رکعت کے بعد تو نہیں بیٹھ گئی اسی طرح تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی کئی بار یہ خیال آتا رہتا ہے کہ پتا نہیں التحیات پڑھی ہے یا نہیں اور کئی بار چار رکعت والی نماز میں جب چار رکعت کے بعد تشہد بیٹھتے ہیں تو مسلسل یہی خیال آتا ہے کہ کیا پہلے تشہد بیٹھے تھے یا نہیں اور ان تمام صورتحال میں غالب گمان کسی طرف بھی نہیں جاتا ایسا تقریباً کیوں کہ ہر نماز میں ہوتا ہے تو کیا اس شک کو نظر انداز کر دیا جائے اور اس کی طرف توجہ نہ دی جائے ؟ یا پھر جیسے آپ حکم فرمائیں-
واضح ہو کہ اگر مذکورخاتون کو بار بار شک ہوتا رہتا ہو، اور رکعات کی تعداد بھولتی رہتی ہو، اور غالب گمان بھی کسی جانب نہ ہو، تو کمی کی جانب کو اختیار کرے، یعنی ایک اور دور کعت میں شک ہو تو ایک، اسی طرح تین اور چار رکعات میں شک ہو تو تین ہی شمار کرتے ہوئے ہر رکعت پر قعدہ کر کے بقیہ نماز مکمل کرے اور پھر آخر میں سجدۂ سہو کرے۔
كما في رد المحتار: (وإذا شك في صلاته من لم يكن ذلك) أي الشك (عادة) له) وقيل من لم يشك في صلاة قط بعد بلوغه عليه أكثر المشايخ بحر عن الخلاصة (كم صلى استأنف بعمل مناف) وبالسلام قاعدا أولى لأنه المحل (وإن كثر) شكه عمل بغالب ظنه إن كان له ظن للحرج (وإلا أخذ بالأقل) لتيقنه (92/2)۔
وفيه ايضا : لقوله : "إذا شك أحدكم فليتحر الصواب فليتم عليه وحمل على ما إذا كثر الشك للرواية السابقة "فإن لم يغلب له ظن أخذ بالأقل" لقوله : "إذا سها أحدكم في صلاته فلم يدر واحدة صلى أو اثنتين فليبن على واحدة فإن لم يدر اثنتين صلى أو ثلاثا فليين على اثنتين فإن لم يدر ثلاثا صلى أو أربعا فليبن على ثلاث ويسجد سجدتين قبل أن يسلم" يعني للسهو فلما ثبت عندهم كل الروايات الثلاث التي رويناها في المسائل الثلاث سلكوا فيها طريق الجميع بحمل كل منها على محمل يتجه حمله عليه كما في فتح القدير "وقعد " وتشهد بعد كل ركعة ظنها آخر صلاته" لئلا يصير تاركا فرض القعدة مع تيسر طريق يوصله إلى يقين عدم تركها وكذا كل قعود ظنه واجبا يقعده والثالث على ما إذا كان الشك من عادته ولم يقع تحريه على شيء ففيه الأمر بطرح الشك والبناء على الأقل قوله: "بحمل كل منها تصوير لطريق الجمع قوله : "ظنها آخر صلاته" فيه أن الموضوع فيمن لا ظن له فلو قال كما قال صاحب التنوير وقعد في كل موضع توهمه موضع قعوده لكان أولى وأهم (92/2)۔
وفي التاتارخانيه: وان لم يقع تحريه على شئ أخذ بالاقل، وفى كل موضع يتوهم أنه آخر الصلاة يقعد لا محالة .... وفى شرح الطحاوى احتياط، وعند الشافعى يبنى على الأقل في الأحوال كلها، وهورواية الحسن عن أبي حنيفة (429/2)
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0