امام صاحب سے نماز میں غلطی ہو گئی اور نماز میں سجدہ ادا نہ کر سکے ، سلام پھیرنے کے بعد امام صاحب اور مقتدی نے بات کر چکے تھے ، آیا اس وقت سجدۂ سہو ادا کیا جا سکتا تھا ، اگر نہیں تو اس کی دلیل دیں، کیونکہ وہ غیر مقلد تھا اور کہہ رہا تھا کہ سجدہ کر لو ، نماز ٹھیک ہوگی۔
امام سے اگر کوئی ایسی کو تا ہی سرزد ہوگئی ہو ، جو وجوبِ سجدۂ سہو کا باعث ہوتی ہے اور بھولے سے سلام پھیر دیا ہو ,تو جب تک کوئی ایسا عمل جو مفسدِصلوٰۃ ہوتا ہے , سرزد نہ ہو جائے سجدۂ سہو کر کے جبر ِنقصان کیا جا سکتا ہے، مگر صورتِ مسئولہ میں سلام پھیرنے کے بعد باہم بات چیت کرنا کلی طور پر نماز سے خارج کر دیتا ہے، اس کے بعد بناء کرنا درست نہیں ہوتا، اس لئے کسی غیر مقلد کا یہ کہنا کہ سجدۂ سہو کر لینے سے نماز ہو جائے گی، اصولِ شرعیہ کے خلاف ہونے کی بناء پر معتبر نہیں، اسے اپنے باطل نظریات کے ذریعہ سادہ لوح عوام الناس میں اختلاف و انتشار پھیلانے سے احتراز لازم ہے۔
في صحيح مسلم : عن معاوية بن الحكم السلمي، قال : بينا أنا أصلي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ، إذ عطس رجل من القوم ، فقلت : يرحمك الله (إلی قوله) فواللہ ، ما قهرني و لا ضربني و لا شتمني ، قال : «إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس ، إنما هو التسبيح و التكبير و قراءة القرآن» أو كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اھ (1/ 381)-
و فی صحيح مسلم: عن زيد بن أرقم ، قال: "كنا نتكلم في الصلاة يكلم الرجل صاحبه و هو إلى جنبه في الصلاة حتى نزلت {و قوموا لله قانتين} [البقرة: 238] فأمرنا بالسكوت ، و نهينا عن الكلام" اھ (1/ 383)-
و في الدر المختار : (و يسجد للسهو و لو مع سلامه) ناويا (للقطع) لأن نية تغيير المشروع لغو (ما لم يتحول عن القبلة أو يتكلم) لبطلان التحريمة اھ (2/ 91)-
في بذل المجهود : (تحت حدیث ذی الیدین) و حاصل هذا الجواب (إلی قوله) قال و ليس فيه ذكر التكلم في الصلاة من رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و أما تكلم الرجل في الصلاة لصلاته و لم يتعرض في الحديث بذكر اعادة صلاته و لا بعدها فلا ليستدل هذا الحديث على جواز كلام المصلح والساهي في الصلاة اھ و فی شرح معاني الآثار : عن عثمان بن الأسود ، قال : سمعت عطاء ، يقول : صلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه بأصحابه فسلم في ركعتين ثم انصرف , فقيل له ذلك فقال: «إني جهزت عيرا من العراق بأحمالها و أحقابها حتى وردت المدينة فصلى بهم أربع ركعات» اھ (1/ 448)-
و فیه أیضا : و قد كان فعل عمر رضي الله عنه هذا أيضا بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم الذين قد حضر بعضهم فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم ذي اليدين في صلاته , فلم ينكروا ذلك عليه , و لم يقولوا له إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد فعل يوم ذي اليدين خلاف ما فعلت . فدل ذلك أيضا على أنهم قد كانوا عملوا من نسخ ذلك , ما قد كان عمر رضي الله عنه علمه اھ (1/ 449)-
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0