اگر نماز کی دو رکعت کے دوران سورت ترتیب سے نہ پڑھی جائے تو کیا سجدہ سہو ضروری ہے؟
فرض نمازوں میں قصداً خلاف ترتیب سورتوں کی قراءت کرنا اگرچہ مکروہ ہے، مگر اس کی وجہ سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔
ففی حاشية ابن عابدين: تحت:(قوله وأن يقرأ منكوسا) بأن يقرأ الثانية سورة أعلى مما قرأ في الأولى لأن ترتيب السور في القراءة من واجبات التلاوة؛ وإنما جوز للصغار تسهيلا لضرورة التعليم (إلی قوله)(قوله ثم ذكر يتم) أفاد أن التنكيس أو الفصل بالقصيرة إنما يكره إذا كان عن قصد، فلو سهوا فلا اھ(1/ 547)
وفی الفتاوى الهندية: وإذا قرأ في ركعة سورة وفي الركعة الأخرى أو في تلك الركعة سورة فوق تلك السورة يكره وكذا إذا قرأ في ركعة آية ثم قرأ في الركعة الأخرى أو في تلك الركعة آية أخرى فوق تلك الآية وإذا جمع بين آيتين بينهما آيات أو آية واحدة في ركعة واحدة أو في ركعتين فهو على ما ذكرنا في السور كذا في المحيط. هذا كله في الفرائض وأما في السنن فلا يكره. (1/ 78)
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0