میرا ایک مسئلہ ہے کہ میں نے وتر ادا کیے، مجھ پر سجدۂ سہو واجب ہو گیا تھا ، لیکن میں سجدۂ سہو کرنا بھول گیا ، سلام کے فوراً بعد مجھے یاد آیا اور پھر میں نے سجدۂ سہو ادا کیا، التحیات، درود شریف دوبارہ پڑھا ، پھر سلام پھیرا ، کیا اس طرح میرے وتر ادا ہو گئے؟
جی ہاں! جب سائل نے سلام پھیرنے کے فوراً بعد یاد آنے پر سجدۂ سہو کر لیا تو اس کی نمازِ وتر ادا ہوگئی۔
فی الدر المختار : (و يسجد للسهو و لو مع سلامه) ناويا (للقطع) لأن نية تغيير المشروع لغو (ما لم يتحول عن القبلة أو يتكلم) لبطلان التحريمة اھ (2/ 91)۔
و فی الفتاوى الهندية : و محله بعد السلام سواء كان من زيادة أو نقصان . و لو سجد قبل السلام أجزأه عندنا هكذا رواية الأصول و يأتي بتسليمتين هو الصحيح، كذا في الهداية . و الصواب أن يسلم تسليمة واحدة و عليه الجمهور اھ (1/ 125)۔
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0