اگر نماز کے احکا م کا پتہ نہ ہوں ،اور آدمی ہر اس عمل جس پر سجدہ سہو واجب نہ ہو تا ہو،تب اس پر سجدہ سہو کرتا رہے ،حالانکہ اس کو احکام کا پتہ ہی نہیں ، تو کیا ایسی صورت میں نماز ہوجاتی ہے؟مثلاً: جیسے آپ نے فتوی میں فرمایا کہ فرض نماز کی تیسری اور چو تھی رکعت میں سورت ملانے پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، تو اگر ایک آدمی نے فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت ملاکر آخر میں سجدہ سہو کرلیا ، تو کیا اس کی نماز ہوجائے گی؟ حالا نکہ اس آدمی کو احکام کا بالکل پتہ نہیں ،بھولنے کی بھی عادت ہے،احکام یاد بھی نہیں رہتے۔
اگر کوئی شخص اپنی کم علمی کی وجہ سے نماز کے اندر ایسے عمل پر (کہ جس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا) یہ سمجھ کر کہ سجدہ سہو کرے کہ شاید ا س پر سجدہ سہو لازم ہوچکا ہے، اس کی وجہ سے اس کی نماز اگر چہ فاسد نہ ہو گی، تاہم مستقل اس طرح کرنے کے بجائے اس کو چاہئے کہ نماز کے مسائل سے واقفیت حاصل کرے۔
کما فی خلاصۃ الفتاوی: اذا ظن الا مام أن علیہ سہوا فسجد للسہو وتابعہ المسبوق فی ذلک ثم علم ان الا مام لم یکن علیہ سہو فیہ روایتان۔۔۔ وقال الامام ابو حفص الکبیر: لایفسد ،والصدر الشہید اخذ بہ فی واقعاتہ، وان لم یعلم الامام ان لیس علیہ سہو لم یفسد صلاۃ المسبوق عند ہم جمیعا الخ (۱/۱۶۳) واللہ اعلم باالصواب
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0