السلام علیکم! مفتی صاحب!
میں نے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ اگر نماز پرھتے ہوئے سورۃ فاتحہ کے بعد قرأت کیے بغیر غلطی سے رکوع میں چلا جائے تو کیا نماز ہوگئی یا اس کو لوٹانا پڑےگا؟ یہ غلطی اگر سنت اور فرض میں ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
اگر یہ غلطی فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں ہوئی ہو یا سنت ونفل وغیرہ کی کسی بھی رکعت میں ہوئی ہو تو اس کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے اور اگر سجدہ سہو نہ کیا جائے تو وقت کے اندر اندر یاد آنے کی صورت میں نماز کا لوٹانا لازم ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے بعد توبہ واستغفار۔
ففی حاشية ابن عابدين:(قوله ومنها القراءة) أي قراءة آية من القرآن، وهي فرض عملي في جميع ركعات النفل والوتر وفي ركعتين من الفرض اھ(1/ 446)
وفی الدر المختار: (وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار (إلی قوله) (في الأوليين من الفرض) وهل يكره في الأخريين؟ المختار لا (و) في (جميع) ركعات (النفل) لأن كل شفع منه صلاة (و) كل (الوتر) احتياطا اھ(1/ 458)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله بترك واجب)أي من واجبات الصلاة الأصلية لا كل واجب إذ لو ترك ترتيب السور لا يلزمه شيء مع كونه واجبا بحر. (2/ 80)
وفی الدر المختار: والإعادة فعل مثله في وقته لخلل غير الفساد اھ (2/ 63) واللہ أعلم بالصواب!
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0