میں جاننا چاہوں گا کہ آج کل کے بریلوی حضرات کے عقائد کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کیا ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز ہے؟
بریلوی امام عام طور پر بدعات میں مبتلا ہوتے ہیں اور بدعتی امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے اور ان بدعات کے ساتھ ساتھ اس کا عقیدہ بھی فاسد ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کی بجائے کسی صالح متبعِ شریعت امام کی اقتداء میں نماز کا اہتمام چاہیے، اب اگر کسی صالح متقی و پرہیزگار امام کی اقتداء میں نماز باجماعت ملنے کی توقع نہ ہو اور اس بدعتی اور فاسد العقیدہ امام کو ہٹا کر اس کی جگہ کسی صالح متبعِ سنت امام کو مقرر کرنا بھی دشوار ہو تو اس صورت میں تنہا نماز پڑھنے کی بجائے اگر اسی امام کے پیچھے نماز باجماعت ادا کر لی جاوے، تاکہ جماعت کا ثواب مل جائے ، تو اس کی گنجائش ہے۔
ففی التاتارخانیة: الصلاة خلف اہل الهواءیکره اھ (۱/۶۰۱)۔
و فی الفتاوى الهندية: و حاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة و إلا فلا اھ (1/ 84)۔
و فی الدر المختار: في النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة اھ
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي» اھ(1/ 562)۔