کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ داڑھی منڈے یا ایک مشت سے کم داڑھی امام کے پیچھے کبھی مجبوراً نماز پڑھنی پڑ جائے تو کیا اُس نماز کا اعادہ واجب ہے؟ نیز یہ کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے اکیلے پڑھنا بہتر ہے یا جماعت کے ساتھ شریک ہو جائے؟ براہِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
داڑھی منڈوانے والے یا ایک مشت سے کم رکھنے والے کی امامت مکروہِ تحریمی ہے، تاہم اگر صالح امام میسر نہ ہو اور مجبوراً ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا پڑ جائے تو اکیلے پڑھنے سے بہتر ہے کہ جماعت میں شریک ہو ا جائے اور بعد میں اس نماز کا اعادہ بھی واجب نہیں ہے، تاہم ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر المختار: و في النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة اھ (1/ 562)۔
و فی الدر المختار و حاشية ابن عابدين: (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي» قال في الحلية: و لم يجده المخرجون نعم أخرج الحاكم في مستدركه مرفوعا «إن سركم أن يقبل الله صلاتكم فليؤمكم خياركم، فإنهم وفدكم فيما بينكم و بين ربكم». اهـ (1/ 562)۔
و فی البحر الرائق (قوله و کره امامة العبد و الأعرابی و الفاسق و المبتدع و الأعمیٰ و ولد الزنا) بیان للشیئین الصحة والکراهة أما الصحة فمبنیّة علی وجود الأهلیة للصلاة مع اداء الأرکان و هما موجود من غیر نقص فی الشرائط و الأرکان و من السنة حدیث ’’صلوا خلف کل بر وفاج‘‘ و فی صحیح البخاری أن ابن عمر کان یصلی خلف الحجاج وکفی به فاسقا کما قاله الشافعی و قال المصنف أنه افسق اهل زمانه اھ (۱/۳۴۸)۔
وفی حاشیة البحر: قال الرملی ذکر الحلبی فی شرح منیة المصلی أن کراهة تقدیم الفاسق والمبتدع کراهم التحریم اھ (۱/۳۴۹)واللہ أعلم بالصواب!