کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہمارے امام مسجد مسمیّٰ فتح محمد ولد محمد رمضان ’’قوم اعوان سکنہ نئی آبادی موضع گروٹ تحصیل و ضلع خوشاب‘‘ امامت کے ساتھ دینی مدرسہ بھی چلارہے ہیں، امام صاحب کی اخلاقی حالت یہ ہے:
جھوٹ بولنا، دوسروں پر غلط تہمت لگانا، گالم گلوچ کرنا، مسجد کے لیے دی گئی اشیاء پر قبضہ کرنا، مسجد و مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین کے علاوہ زائد رقبہ پر قابض ہونا، پوچھنے پر گالم گلوچ کرنا اور مدرسے کے بچوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو زد و کوب کرنا۔
مندرجہ بالا وجوہ کی بناء پر کیا ایسا شخص یا اس کا بھائی جو کہ بعض اوقات اما م صاحب کی غیر موجودگی میں امامت کے فرائض انجام دیتا ہے اور بھائی ان کے ساتھ ان غیر اخلاق سرگرمیوں میں شامل ہے ، کیا اہلِ محلہ جو کہ پہلے ہی ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے انکار ی ہو چکے ہیں، امامت کے لائق ہیں؟ براہِ مہربانی فتویٰ مرحمت فرما کر ہمیں اس ذہنی و دینی مسئلے سے گلو خلاصی عطا فرمائیں ، آپ کی عین نوازش ہوگی۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور بیان اگر واقعۃً درست ہو اور اس میں کسی قسم کے جھوٹ اور غلط بیانی کا بھی سہارا نہ لیا جا رہا ہو تو اپنی مذکور حرکات کی وجہ سے وہ بلاشبہ فاسق ہے اور ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس لیے مذکور امام موصوف پر لازم ہے کہ اپنے مذکور ناجائز طرزِ عمل سے احتراز کریں، تاکہ اس کی اقتداء میں نماز بلا کراہت درست ادا ہو سکے۔
ففی الدر المختار: (و لو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه کره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما و هم له كارهون» (إلی قوله) (و يكره) تنزيها (إمامة عبد) (إلی قوله) (و أعرابي وفاسق) اھ (1/ 559)۔
و فی قواعد الفقه: الفاسق من یرتكب الکبائر و یصر علی الصغائر اھ (ص: ۴۰۵)۔