کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک سی مین ہوں ، یعنی بحری جہازوں پر کام کرتا ہوں ، حکومت نے ہمارے سی مینوں کی رہائش کے لیے ایک بلڈنگ بنوائی ہے، یہاں پر ایک وقت میں ۱۵۰ سی مین رہائش پذیر ہوتے ہیں، اس بلڈنگ سے پہلے اسی جگہ پر ایک پرانی بلڈنگ تھی ، اب اسی جگہ پر ایک نئی بلڈنگ میں مسجد کے لیے کوئی جگہ وقف کی ہے ، لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ یہاں سی مینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور سہولت کے خاطر ایک ہال میں مسجد قائم کی ہے ، جس میں نماز پڑھتے ہیں، پیش امام صاحب کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی تنخواہ وغیرہ نہیں ہے، بلکہ ہم سب سی مین مل کر ان کے لیے کچھ پیسے جمع کر دیتے ہیں، جبکہ ہماری اس بلڈنگ سے تقریباً ایک دو منٹ کے فاصلے پر ایک بڑی جامع مسجد (مسجد مصطفیٰ) ہے اور اس کے قریب ہی ایک اور بڑی مسجد (غائب شاہ بابا) کے نام سے ہے جو تقریباً چار منٹ کے فاصلے پر واقع ہے اور (K.P.T) کی مسجد (مسجد الشفاء) بھی قریب میں ہے، ان تینوں مسجدوں میں پانچ وقت نماز باجماعت ادا کی جاتی ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا ہم لوگ اپنی بلڈنگ کی مسجد میں نماز باجماعت ادا کر سکتے ہیں؟ دیگر مساجد کو چھوڑ کر؟ شرعی مسئلہ کیا ہے؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ شکریہ
صورتِ مسئولہ میں مذکور ملازمین کا قُرب و جوار کی مساجد کو چھوڑ کر اپنی سہولت و راحت کے خاطر اپنی ہی بلڈنگ میں باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے جگہ منتخب کر کے اس میں نماز پڑھنے سے اگرچہ ان کی نماز شرعاً ادا ہو جاتی ہے اور جماعت کا ثواب بھی ملتا ہے، لیکن باضابطہ وقف اور مسجدِ شرعی نہ ہونے کی وجہ سے مسجد کے ثواب سے محرومی ہوتی ہے، اس لیے مسجد جانے کو بالکل ترک کرنے سے احتراز چاہیے۔
ففی غنية المتملی: ( و ان صلی ) احد (فی بیته بالجماعة) حصل لھم ثوابھا و ادرکوا فضلھا (لم ینالوا فضل الجماعة) التی تکون ( فی المسجد) لزیادة فضیلة المسجد و تکثیر جماعته و اظہار شعائر الاسلام (و ھکذا فی المکتوبات) ای الفرائض لو صلی جماعة فی البیت علی ھیئة الجماعة فی المسجد نالوا فضیلة الجماعة و ھی المضاعفة بسبع و عشرین درجة لکن لم ینالوا فضیلة الجماعة الکائنة فی المسجد اھ (402)۔