امامت و جماعت

فیکٹری کی مسجد میں متعدد جماعت اور جمعہ پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
61420
| تاریخ :
2007-02-22
عبادات / نماز / امامت و جماعت

فیکٹری کی مسجد میں متعدد جماعت اور جمعہ پڑھنے کا حکم

محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم! ہماری فیکٹری سائٹ ایریا میں واقع ہے، جہاں ہم نے فیکٹری میں نماز کے لیے جگہ مختص کی ہے، جس میں تقریباً ۱۵۰ افراد کی گنجائش ہے ، یہاں پر پانچ وقت کی نماز کا اہتمام نہیں ہوتا اور جمعہ کی نماز بھی نہیں پڑھائی جاتی، نمازیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر ۲ سے ۳ جماعتیں ایک وقت میں وقفے سے ادا کی جاتی ہیں، ہمیں اس جگہ کے بارے میں چند مسائل جو کہ درجِ ذیل ہیں، اس میں آپ کی راہ نمائی اور فتویٰ درکار ہے۔
۱۔ کیا اس جگہ پر ایک وقت میں ۲ سے ۳ جماعتیں کرنا جائز ہے؟
۲۔ اگر اس کو جامع مسجد کا درجہ دیا جائے اور جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا جائے تو کن باتوں کا خیال ملحوظ رکھا جائے اور کیا فیکٹری میں باہر سے آنے والوں کو سیکیورٹی کی وجہ سے روکا جا سکتا ہے؟
۳۔ کیا فیکٹری کے گارڈن میں بغیر صف بچھائے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ برائے مہربانی تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب یہ جگہ باضابطہ مسجدِ شرعی نہیں، بلکہ محض جائے نماز ہے تو یہاں ایک وقت مثلاً ظہر کی نماز میں ایک سے زائد جماعتیں کروانا بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم دوسری جماعت کے دوران امام موصوف کو پہلے امام کی جگہ سے ہٹ کر کھڑا ہونا بہتر وافضل ہے۔
اور اگر اس جگہ کو باضابطہ مسجد کے لیے وقف کر کے مسجد شرعی بنانا چاہتے ہوں تو یہ بھی جائز اور درست ہے،پھر جو جگہ ایک دفعہ مسجد کے حکم میں داخل ہو جاتی ہے وہ تا قیامت مسجد ہی رہتی ہے، اس لیے اس سلسلہ میں کسی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جسے بعد میں تبدیل وغیرہ نہ کرنا پڑے، تاہم جب یہ جگہ شہر کی حدود میں داخل ہے اور کمپنی کی سیکیورٹی وغیرہ کی بناء پر باہر کے اور غیر متعلقہ افراد کےلیے اذنِ عام نہ بھی ہو، تب بھی نمازِ جمعہ کی ادائیگی شرعاً درست کہلائےگی اور اگر نمازِ جمعہ کے وقت سیکیورٹی گارڈ وغیرہ کےانتظام کے بعد باہر کے دیگر افراد کو بھی ادائیگئی جمعہ کی اجازت ہوجائے تو زیادہ بہتر اور مقصودِ جمعہ کے بھی مناسب ہے۔
۳۔ جی ہاں! اگر یہ جگہ ناپاک نہ ہو تو بغیر صف بچھائے بھی نماز پڑھ سکتے ہیں، ورنہ اس سے احتراز اور صف وغیرہ کا اہتمام لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: و يكره تكرار الجماعة بأذان و إقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له و لا مؤذن اھ(1/ 552)۔
و في رد المحتار تحت (قوله و يكره) تحریما (الی قوله) هذا و قدمنا في باب الأذان عن آخر شرح المنية عن أبي يوسف أنه إذا لم تكن الجماعة على الهيئة الأولى لا تكره و إلا تكره، وهو الصحيح، و بالعدول عن المحراب تختلف الهيئة كذا في البزازية انتهى. و في التتارخانية عن الولوالجية: و به نأخذ اھ (1/ 553)۔
و في الدر المختار: فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله و غلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الأنهر معزيا لشرح عيون المذاهب اھ(2/ 152)۔
ففي المصنف لإبن أبي شيبه: حدثنا أبو بكر قال حدثنا محمد بن فضيل عن أبي مالك الاشجعي عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( جعلت لنا الارض كلها مسجدا )اھ (3/ 262)۔
و في رد المحتار: (قوله و أن يجد حجم الأرض) تفسيره أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك، فصح على طنفسة و حصير و حنطة و شعير و سرير و عجلة و إن كانت على الأرض (الي قوله) أو حشيش إلا إن وجد حجمه اھ (1/ 500)۔
و في الفتاوى الهندية: و إن كانت النجاسة تحت قدمي المصلي منع الصلاة كذا في الوجيز للكردي و لا يفترق الحال بين أن يكون جميع موضع القدمين نجسا و بين أن يكون موضع الأصابع نجسا اھ(1/ 61)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 61420کی تصدیق کریں
0     1283
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات