امامت و جماعت

عامل عالم باعمل کی امامت

فتوی نمبر :
60824
| تاریخ :
2011-02-01
عبادات / نماز / امامت و جماعت

عامل عالم باعمل کی امامت

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کے امام خطیب جن کا تعلق اہلِ سنت والجماعت دیوبند سے ہے، انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ پندرہ (۱۵) سال قبل ایک آدمی ان کو اپنے گھر لے گیا اور کہا کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے ، لیکن وہ اپنے اوقات میں آکر بچوں کو ٹیوشن پڑھانے آتا ہے اور پڑھا کر چلا جاتا ہے، آپ دم کردیں، امام صاحب گئے، ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے، آدمی خود اندر چلا گیا، ڈرائنگ روم میں ایک آدمی بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہا تھا ، پڑھا کر چلا گیا، تھوڑی دیر کے بعد آدمی اندر سے آیا اور پوچھا امام صاحب سے کہ دیکھا؟ کہا نہیں، تو اس آدمی نے کہا یہ جو ٹیوشن پڑھا رہا تھا یہی بھائی تھا ، امام صاحب نے کہا کہ یٰسین شریف اور آیت الکرسی پڑھیں، دم کیا اور آگئے، مسجد میں درس کے دوران یہ واقعہ سنانے کے بعد امام صاحب نے سامعین سے کہا اس پر ہمارا عقیدہ نہیں، یہ ہندوؤں کے اوتار و نظریات ہوتے ہوں گے، زندگی میں ایسے واقعات کا سامنا ہوتا رہتا ہے، لہٰذا بندے کو ہوشیار اور اپنے عقیدے قائم رہنا چاہیے۔
1۔ امام صاحب امامت کے ساتھ ساتھ عصر سے عشاء تک حکمت، تعویذ ودم وغیرہ کرتے ہیں ،اس معاملے کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں،اور اہلِ محلہ کو اس سے کوئی شکایت نہیں، لوگوں کو فیض مل رہا ہے ، جماعت اپنے ٹائم پر ہوتی ہے ، امام صاحب کا بہت خیال رکھتے ہیں تعویذ ، دم اور حکمت سے اپنے گزر اوقات چلاتے ہیں، کیونکہ مسجد انتظامیہ انہیں عرصہ پچس(۲۵) سال سے خدمت کا وظیفہ صرف چار ہزار پانچ سو (۴۵۰۰) دے رہی ہے جو موجودہ دور میں ناکافی ہے۔
2۔ امام صاحب کو مراقبہ کی حالت میں قبرستان دعا کرتے ہوئے اور محراب میں ذکر کرتے ہوئے دوست کی والدہ محترمہ (مرحومہ) نظر آتیں، دوست کی والدہ محترمہ امام صاحب کو اپنا بیٹا سمجھتی تھیں، اور یہ بھی انکو والدہ کا احترام دیتے تھے، والدہ مرحومہ امام صاحب کو کہہ رہی ہیں کہ اپنے دوست کو کہو کہ اپنے چھوٹے بھائی کا خیال کر ے تین دن لگاتار یہ معاملہ ہوا، کافی غور کے بعد امام صاحب نے اپنے دوست سے کہا یہ معاملہ ہے، اس نے اپنے چھوٹے بھائی سے بات کی، اس نے انکار کر دیا ، دوست نے امام صاحب کو بتایا، امام صاحب نے کہا کہ اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ ، جب تینوں کی ملاقات ہوتی ہے تو چھوٹے بھائی نے اقرار کیا کہ اپنے مالک مکان کو آٹھ ماہ کا کرایہ دینا ہے، گھر کے حالات بھی ٹھیک نہیں، مالک مکان سے ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ چالیس ہزار روپے(۴۰۰۰۰) ادا کرنے ہیں، دوست نے کہا کہ فی الحال وہ یہ رقم ادا نہیں کر سکتا ، امام صاحب نے اپنی جیب سے تیس ہزار (۳۰۰۰۰) روپے مالک مکان کو ادا کر دیا، دوست نے کہا کہ وہ پچاس ہزار (۵۰۰۰۰) کے حساب سے ادا کرے گا اما م صاحب کو، اور معاملہ ختم ہوگیا ،دونوں بھائیوں میں پھر بات چیت شروع ہوگئی۔
تو تین ماہ بعد انتظامیہ مسجد کو یہ بات معلوم ہو ئی تو انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے ، اس سے ایمان کا خطرہ ہے ، ایسا نہیں ہوسکتا، دین کا اس سے کوئی تعلق نہیں، پتہ نہیں امام صاحب اس بات سے کیا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ؟اب دوست کے دل میں بھی بدگمانی شروع ہوئی کہ واقعی ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو ہر مجرم کی خبر بھی ان کو ہونی چاہیے ہیں۔
مفتیانِ کرام اس بار ے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایسے امام کے پیچھے جو صاحب کرامت ہو اور سنت کے مطابق تعویذات اور حکمت کاکام کرتا ہو، اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟اور جو اپنے امام کے خلاف پروپیگنڈا ، غیبت اور بلاوجہ اعتراضات کرتے ہیں، ایسے افراد کی اس امام کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور امام موصوف اگر واقعۃً عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ متقی پرہیزگار اور متبعِ سنتِ رسولؑ بھی ہوں اور جائز مقاصد کے لیے تعویذات دیتے ہوں اور مریضوں پر دم بھی کرتے ہوں اور اس دوران ان سے کرامت کا ظہور ہوجائے تو اس میں کونسی قباحت ہے، جبکہ وہ ایک طویل وقت سے امام ہیں اوراس مدت کے دوران کسی غیر شرعی کام کے مرتکب بھی نہیں ہوئے ایسے شخص کے بارے میں غیبت کرنا، اسے برا بھلا کہنا یا اس کے خلاف پروپیگنڈہ وغیرہ کرنا سب امور شرعاً ناجائز اور اپنی آخرت برباد کرنے کے مترادف ہیں جن سے احتراز کی اشد ضرورت ہے۔
اس کےبعد واضح ہو کہ مذکورہ بالا اوصاف کی موجودگی میں اگرچہ ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم امام موصوف کو چاہیے کہ اس طرح کشف و کرامت کی باتیں عوام کے سامنے بیان کرنے سے احتراز کریں تاکہ کسی قسم کے فتنہ و فساد کا دروازہ نہ کھل سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحيح الترغيب والترهيب: و عن عمرو بن العاصي - رضي الله عنه - :أنَّه مرَّ على بَغْلٍ مَيْتٍ فقال لبعْضِ أصْحابِه: لأَنْ يأكُلَ الرجلُ مِنْ هذا حتى يَمْلأ بَطْنَهُ ، خيرٌ له مِنْ أنْ يأكُلَ لحْمَ رجلٍ مسْلِمَ. (3/ 79)۔
و فی مصنف ابن أبي شيبة: عن قيس، أن عمرو بن العاص، مر على بغل ميت، فقال لأصحابه: «أن يأكل أحدكم من هذا حتى يملأ بطنه، خير من أن يأكل لحم أخيه المسلم»(5/ 230)۔
وفی رد المحتار: (قوله التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن، وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية اهـ فلتراجع نسخة أخرى. وفي المغرب وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم و ليس كذلك إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا و رقية إذا عوذه و نفث في عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو و لعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ (6/363)۔
وفی شرح فقه الاکبر: (والآیات) ای خوارق العادات المسماة بالمعجزات(ثابتة للانبیاء علیھم الصلاۃ و السلام و الکرامات للاولیاء حق) ای ثابت بالکتاب والسنة (الی قوله ) وذالک کما وقع من جریان النیل بکتاب عمر رضی اللہ عنه و رؤیته علی المنبر بالمدینة جیشه بنھاوند اھ (130)۔
وفی الفتاوى الهندية: الأولى بالإمامة أعلمهم بأحكام الصلاة. هكذا في المضمرات وهو الظاهر. هكذا في البحر الرائق هذا إذا علم من القراءة قدر ما تقوم به سنة القراءة هكذا في التبيين ولم يطعن في دينه. كذا في الكفاية وهكذا في النهاية. ويجتنب الفواحش الظاهرة وإن كان غيره أورع منه اھ (1/ 83)۔
و فیھا ایضا: رجل أم قوما و هم له كارهون إن كانت الكراهة لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة يكره له ذلك وإن كان هو أحق بالإمامة لا يكره اھ (1/ 87)۔
وفی الدر المختار: (ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون» (وإن هو أحق لا) والكراهة عليهم. (1/ 559)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60824کی تصدیق کریں
0     1001
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات