کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درجِ ذیل حدیث کے بارے میں کہ:
۱۔ ’’جو کوئی دوسری قوم کی نقل کرے گا وہ اسی قوم سے ہوجائےگا‘‘میں اس سے یہ سمجھا ہوں کہ ہمیں دوسروں کی نقل نہیں کرنی چاہیے، میرے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے رسولﷺ جب مدینہ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ یہاں لوگ سال بھر میں تہوار مناتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو بھی اس طرح کے دو تہوار منانے چاہیں، اس کے بعدسے عیدین منائی جانے لگیں، میرے پاس اس کے لیے کوئی حوالہ نہیں ہے، اگر میں غلط ہوں تو میری اصلاح کریں۔
۲۔ مدینہ کے یہودی دس(۱۰) محرم کو روزہ رکھتے تھے کیونکہ اس روز اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی تھی تو حضورﷺ نےکہا کہ موسیٰؑ کے ہم پر حقوق ہیں تو ہم بھی دس محرم اور نو محرم کو روزہ رکھیں( کوئی حوالہ نہیں ملتا)۔
اسی طرح ایک طرف تو دوسری قوم کی نقل سے منع کیا گیا ،جبکہ دوسری طرف کوئی اچھی چیز دوسری قوم کی اختیار کی گئی کچھ تبدیلی کے ساتھ ، تاکہ یکسانیت نہ ہوتےپائے۔
اسی طرح ہم سالِ نو بخیر کیوں نہیں منا سکتے؟ ہم سالِ نو پر ایک دوسرے کو نیک دعائیں دے سکتے ہیں، اس طرح اپنے طریقے سے یعنی قرآن و عبادت کر کے ہم سالگرہ و غیرہ منا سکتے ہیں اور اپنے عزیزوں کو دعائیں اور نیک تمنائیں دے سکتے ہیں، اس طریقہ سے والدین کے دنوں کو منایا جا سکتا ہےاچھے انداز میں ؟
تشبہ بالکفار کی چند صورتیں ہیں:
۱۔ فطری امور میں مشابہت، مثلاً کھانا پینا، چلنا پھرنا، سونا لیٹنا، صفائی رکھنا وغیرہ یہ مشابہت حرام نہیں۔
۲۔ عادات میں مشابہت مثلاً جس ہیئت میں وہ کھانا کھاتے ہیں اسی ہیئت میں کھانا یا لباس ان کی وضع پر پہننا، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ہماری کوئی خاص وضع پہلے سے ہو اور کفار نے بھی اس کو اختیار کر لیا ہو، خواہ ہمارا اتباع کر کے یا ویسے ہی ، اس صورت میں یہ مشابہتِ اتفاقیہ ہے، اور اگر ہماری وضع پہلے سے جدا ہو اور اس کو چھوڑ کر ہم کفار کی وضع اختیار کر لیں، یہ ناجائز ہے، اگر ان کی مشابہت کا قصد بھی ہے تب تو کراہتِ تحریمی ہے اور اگر مشابہت کا قصد نہیں ہے، بلکہ اس لباس اوروضع کو کسی اور مصلحت سے اختیارکیا گیا ہے تو اس صورت میں تشبہ کا گناہ نہ ہوگا، مگر چونکہ تشبہ کی صورت ہے، اس لیے کراہتِ تنزیہی سے خالی نہیں۔
مگر چونکہ آج کل عوام جواز کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں ان کا قصد تشبّہ ہی ہوتا ہے اس لیے اکثر احتیاط کے لیے عادات میں بھی تشبّہ سے منع کیاجاتا ہے، خواہ تشبہ کا قصد ہو یا نہ ہو۔
۳۔ ان امور میں تشبّہ جو کفار کا مذہبی شعار یا دینی رسم اور قومی رواج ہے جیسے زنّار وغیرہ پہننا، یا مجوس کی خاص ٹوپی جو ان کے مذہب کا شعار ہے، اس میں تشبہ حرام ، بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے، عالمگیریہ وغیرہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
ففی الدر المختار: فإن التشبه بهم لا يكره في كل شيء ، بل في المذموم و فيما يقصد به التشبه، كما في البحر اه(1/ 624)۔
و فی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله لأن التشبه بهم لا يكره في كل شيء) فإنا نأكل و نشرب كما يفعلون بحر عن شرح الجامع الصغير لقاضي خان، و يؤيده ما في الذخيرة قبيل كتاب التحري. قال هشام: رأيت على أبي يوسف نعلين مخصوفين بمسامير، فقلت: أترى بهذا الحديد بأسا ؟ قال لا قلت: سفيان و ثور بن يزيد كرها ذلك لأن فيه تشبها بالرهبان؛ فقال «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يلبس النعال التي لها شعر» و إنها من لباس الرهبان. فقد أشار إلى أن صورة المشابهة فيما تعلق به صلاح العباد لا يضر، فإن الأرض مما لا يمكن قطع المسافة البعيدة فيها إلا بهذا النوع. اه(1/ 624)۔
ففی مشکاة المصابیح: عن ابن عمر -رضی اللہ عنه- قال قال رسول اللہ -صلى الله عليه وسلم - من تشبه بقوم فهو منهم رواه احمد و ابوداوود (ص375)۔
و فی سنن الترمذي: عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال ليس منا من تشبه بغيرنا لا تشبهوا باليهود و لا بالنصاري فإن تسليم اليهود الإشارة بالأصابع و تسليم النصارى الإشارة بالأكف اه (5 / 56)۔
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال قال رسول الله-صلى الله عليه وسلم- من تشبه بقوم أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس و غيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف و الصلحاء الأبرار فهو منهم اه (13 / 96)۔
و فی البحر الرائق: و في الخلاصة يكفر بقوله أنا بريء من الثواب و العقاب و بقوله لو عاقبني الله مع ما بي من المرض و مشقة الولد فقد ظلمني و بشد المرأة حبلا في وسطها و قالت هذا زنار اه(5/ 134)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1