۱۔ ہمارے علاقہ میں رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے بعد تمام لوگ باری باری میت کا چہرہ دیکھتے ہیں ، شرعاً یہ کیسا عمل ہے، کیا جنازہ سے پہلے چہرہ دیکھنے کی اجازت ہے؟
۲۔ تدفین کے بعد تلقین کا کیا حکم ہے وہ سراً پڑھنی چاہیے یا جہراً؟ قرآن و حدیث کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔
۱۔ میت کا چہرہ دیکھنا چاہے جنازہ سے پہلے ہو یا بعد میں، بہر صورت جائز ہے، مگر اس کو رسم بنا لینا صحیح نہیں۔
۲۔ تلقین سے مراد اگر اوّلِ بقرہ اور آخرِ بقرہ کا پڑھنا ہو تو اس کا پڑھنا ثابت، بلکہ مستحب ہے اور سراً و جہراً دونوں طرح پڑھنے کی گنجائش ہے، اگر چہ جہراً مروج اور بہتر ہے۔
ففی سنن ابن ماجه: عن أنس بن مالك، قال: لما قبض إبراهيم ابن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال لهم النبي - صلى الله عليه وسلم -: " لا تدرجوه في أكفانه حتى أنظر إليه، فأتاه، فانكب عليه، و بكى اھ(1/ 473)۔
و فیه أیضا:عن عائشة، قالت: لما قبض رسول الله - صلى الله عليه وسلم- و أبو بكر عند امرأته، ابنة خارجة بالعوالي، فجعلوا يقولون، لم يمت النبي - صلى الله عليه وسلم - ، إنما هو بعض ما كان يأخذه عند الوحي، فجاء أبو بكر، فكشف عن وجهه و قبل بين عينيه اھ (1/ 520)۔
و فی المعجم الكبير للطبراني: ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ’’إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ، وَ أَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ، وَ لْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَ عِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي قَبْرِهِ‘‘ اھ(12/ 444)۔
و فی شرح الصدور بشرح حال الموتى و القبور: و أخرج الطبراني و البيهقي في الشعب عن إبن عمر - رضي الله عنهما- قال سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول إذا مات أحدكم فلا تحبسوه و أسرعوا به إلى قبره و ليقرأ عند رأسه فاتحة الكتاب و لفظ البيهقي فاتحة البقرة و عند رجليه بخاتمة سورة البقرة في قبره اھ(ص: 109)۔
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1