میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، اور ان کی تدفین ان کے پیسوں سے ہو گئی، لیکن میں نے اپنے بھائیوں کو مشورہ دیا کہ والد صاحب کی تدفین ہم سب (پانچ) بھائیوں کو کرنی چاہیے ، سب نے اتفاق کیا سوائے ایک بھائی کے، وہ کہتے ہیں کہ شرعی طریقہ یہ ہے کہ تدفین مرنے والے کے پیسوں سے کی جائے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ صحیح ہے ؟ اور اگر ہم اپنے پیسوں سے کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج ہے کیا ؟
والد کے احسانات کو مد نظر رکھتے ہوئے سائل اور اس کے دیگر بھائیوں کو چاہیےتھا کہ مرحوم والد کے کفن دفن کا انتظام کرتے، اگر ایک بھائی اس میں شریک ہونا نہ چاہتا ہو، تو اس کو چھوڑ کر دیگر بھائی کفن دفن کا انتظام کرتے، یہ بہتر تھا ، تاہم عزیز رشتہ داروں میں سے کوئی کفن دفن کا انتظام نہ کرے تو ایسی صورت میں مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ان کے ترکہ سے ادا کیے جائینگے، لیکن اگر میت کی اولاد یا کوئی اور شخص اپنی مرضی سے یہ مصارف ادا کرے تو شرعا اس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا كفن أحدكم أخاه فليحسن كفنه». رواه مسلم اھ (1/ 518)
وقال في التاتارخانية : يجب أن يعلم بأن التركة تتعلق بها حقوق اربعة: جهاز الميت ودفنه والدين، والوصية ، والميراث، فيبدأ بجهازها وكفنه وما يحتاج اليه فى دفنه بالمعروف اھ (۴/ ۱۲۱ )
وفی فتح القدير للكمال ابن الهمام: ولا يخرج الكفن عن ملك المتبرع به، فلذا لو كفن رجلا ثم رأى الكفن مع شخص كان له أن يأخذه، وكذا إذا افترس الميت سبع كان الكفن لمن كفنه لا للورثة اھ (2/ 113)
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1