کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زوجین میں سے اگر کوئی وفات پاجائے تو دوسرا میت کو دیکھ سکتا ہے یا اس کو ہاتھ لگا سکتا ہے، نیز اگر بیوی مرجائے تو شوہر اس کو اپنے ہاتھوں سے دفنا سکتا ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا حل بتائیں۔ شکریہ
زوجین میں سے اگر مرد کا انتقال ہوجائے تو بیوی کیلئے اپنے خاوند کو دیکھنا، چھونا، اور بوقتِ ضرورت غسل دینا جائز ہے، اور اگر عورت ’’زوجہ‘‘ کا انتقال ہوجائے تو زوج کیلئے زوجہ کو دیکھنا تو جائز ہے مگر اسے چھونا یا غسل دینا جائز نہیں، اگر عورت ’’زوجہ‘‘ کے محرم موجود ہوں تو قبر میں اُتارے، البتہ اگر سب غیر محرم ہی ہوں تو زوج بھی اس کو قبر میں اُتار سکتا ہے۔
فی الدر المختار: وفی البدائع المرأۃ تغسل زوجہا لان إباحۃ الغسل مستفادۃ بالنکاح فتبقی ما بقی النکاح والنکاح بعد الموت باق إلٰی ان تنقضی العدۃ بخلاف ما اذا ماتت فلا یغسلہا لانتہاء ملک النکاح لعدم المحل فصار اُجنبیا۔ اھـ (ج۱، ص۶۳۴)-
وفی الہندیۃ: وذو الرحم المحرم أولٰی بإدخال المرأۃ من غیرہم، کذا فی الجوہرۃ النیرۃ وکذا ذوالرحم غیر المحرم اولی من الأجنبی فإن لم یکن فلا بأس للاجانب وضعہا۔ اھـ (ج۱، ص۱۶۶) -
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1