اگر کوئی شخص دو ، تین دن قبل فوت ہو ا ہو اور اس کی لاش سڑنے لگی ہو ، تو اس کو غسل اور کفن کیسے دیں اور کیا اب بھی اس پر نمازِ جنازہ پڑھا جائے گا؟
میت کے کفن دفن میں تاخیر نہیں کرنی چاہیۓ ، تاہم اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہوجائے اور سڑنے کی وجہ سے میت کو مسنون طریقہ پر غسل دینا ممکن نہ ہو تو فقط اس کے جسم پر پانی بہا دینا کافی ہے، اس کے بعد اسے مسنون طریقہ کے مطابق کفن دیا جاۓ ، اور اگر ایسا کرنا کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو اسے ایک کپڑے میں کفن دے کر اس پر نمازِ جنازہ پڑھ کر تدفین کی جائے۔
كما في الفتاوى الهندية : و لو كان الميت متفسخا يتعذر مسحه كفى صب الماء عليه ، كذا في التتارخانية ناقلا عن العتابية اھ (1/ 158)۔
و في الدر المختار : ( و ) آدمي (منبوش طري) لم يتفسخ (يكفن كالذي لم يدفن) مرة بعد أخرى (و إن تفسخ كفن في ثوب واحد) اھ (2/ 205)۔
و فى الفتاوى الهندية : و شرطها إسلام الميت و طهارته ما دام الغسل ممكنا اھ (1/ 163)۔
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1