بیوی کا انتقال ہو جائے تو کیا شوہر اسے غسل دے سکتا ہے یا نہیں؟ سنا ہے کہ حضرت علی ؓ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اُن کے انتقال کے بعد غسل دیا تھا، براہِ مہربانی تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
بیوی کے انتقال کے بعد شوہر کے لیے اُسے غسل دینا جائز نہیں، اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں جو مذکور ہے کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا تھا، وہ حضرت علی ۔رضی اللہ عنہ ۔کی خصوصیت تھی یا غسل کے اسباب مہیا کرنے پر محمول ہے۔
ففی الدر المختار: (ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح) منية اھ (2/ 198)
وفی حاشية ابن عابدين: قال في شرح المجمع لمصنفه فاطمة - رضي الله تعالى عنها - غسلتها أم أيمن حاضنته - صلى الله عليه وسلم - ورضي عنها فتحمل رواية الغسل لعلي - رضي الله تعالى عنه - على معنى التهيئة والقيام التام بأسبابه، ولئن ثبتت الرواية فهو مختص به اھ (2/ 198)
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1