کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اہلِ السنۃ والجماعۃ کے ہاں مروّجہ حیلۂ اسقاط جائز اور درست ہے، غلط قسم کے لوگ اسے حرام اور بدعت کہتے ہیں، اسے حرام کہنے والے نجدی ہیں۔ (طحطاوی بمعہ مراقی الفلاح: ص۲۳۹)۔
سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ بات درست ہے یانہیں؟
مروّجہ حیلۂ اسقاط جو ہمارے زمانہ میں مروج اور مشہور ہے ،بلاشبہ بدعت اور ناجائز ہے، اولاً اس لئے کہ اگر یہ کوئی کارِ خیر ہوتا تو نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ اس کیلئے زیادہ تاکید کرتے کیونکہ ان کی شفقت عام مؤمنین کے ساتھ بہت بڑھی ہوئی تھی مگر باوجود اس کے ایسے لوگوں کے لۓ ، جن کے ذِمہ نماز، روزہ وغیرہ قضا ء واجب تھے ،ان حضرات نے یہ حیلہ تجویز نہیں فرمایا، علاوہ ازیں بعض فقہاءِ کرامؒ نے جو کہیں اس کی اجازت دی ہے وہ اس وقت ہے جب کہ اتفاقاً کسی آدمی کیلئے ضرورت پڑجائے اور فسادِ عقیدۂ عوام نہ ہو اور رسمِ بدعت نہ پڑجائے ورنہ جب منکرات پر مشتمل ہوجائے تو پھر اس کا ترک بالاتفاق ضروری ہوجاتا ہے (صرح بہ الشامی وغیرہ )جیسا کہ ہمارے زمانے میں طرح طرح کے منکرات اس میں پیدا ہوگئے ہیں، اولاً تملیکِ فقراء اس طرح کی جاتی ہے کہ اس سے تملیک ہی متحقق نہیں ہوتی، ثانیاً اس رسم کے پڑجانے سے عوام دلیر ہوجاتے ہیں کہ نماز روزہ سب حیلۂ اسقاط کے ذریعے ساقط ہوجائیں گے، ثالثاً لوگوں نے اس کا ایسا التزام کرلیا ہے کہ اس کو ایک مستقل عمل، اعمالِ تجہیز و تکفین میں سے سمجھتے ہیں، جو یقینا بدعت ہے۔
(ماخوذ از امداد المفتیین: ص۱۷۰)۔
لہٰذا اس قسم کے حیلوں کو علماءِدیوبند (اہلِ السنۃ و الجماعۃ )کا عقیدہ قرار دینا اور جو ایسا نہ کرے اسے وہابی سمجھنا درست نہیں اس طرزِ عمل سے احترازلازم ہے۔
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1