کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر شوہر کا انتقال ہوجائے تو کیا بیوی اس کو غسل دے سکتی ہے؟ اور کیا اپنے شوہر کو دیکھ سکتی ہے؟ اس کے برعکس اگر بیوی کا انتقال ہوجائے تو کیا شوہر غسل دے سکتا ہے اور کیا اس کو دیکھ سکتا ہے؟
اگر شوہر اپنی بیوی کو مرنے سے پہلے وصیت کرجائے کہ مجھے غسل دے دینا تو کیا یہ صحیح ہے؟ اس پر عمل کرنا واجب ہے؟ اور اس کے برعکس بیوی اپنے شوہر کو وصیت کرجائے غسل کا تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
اگر کوئی مرد غسل دینے والا موجود نہ ہو تو بیوی بھی اپنے مرد کو غسل دے سکتی ہے، اگر خاوند بیوی کے غسل دینے کی وصیت کرجائے تو اس کا پورا کرنا لازم اور ضروری نہیں، اور اگر بیوی کا انتقال ہوجائے تو مرد ’’خاوند‘‘ بیوی کو دیکھ سکتا ہے مگر چُھو نہیں سکتا، اسی طرح نہلانے والی کوئی عورت موجود نہ ہو تو خاوند بیوی کو غسل بھی نہیں دے سکتا، عورت کو غسل دینا نہ خاوند کیلئے جائز ہے اور نہ دیگر محارم کیلئے بلکہ ایسی صورت میں خاوند اسے تیمم کرادے، ہاں تیمم کرانے کیلئے اس کے ہاتھوں اور منہ کو دیکھنا جائز ہے، مگر ان کو چُھونا اور مس کرنا درست نہیں، بلکہ ہاتھ پر کپڑا وغیرہ لپیٹ کر تیمم کرائے، اور اگر بیوی خاوند کے غسل دینے کی وصیت کرجائے تب بھی اس وصیت پر عمل کرنا جائز نہیں۔
(والمرء ۃ تغسل زوجہا بخلافہ) أی الرجل فإنہ لا یغسل زوجتہ لا نقطاع النکاح وإذا لم توجد امرءۃ لتغسیلہا ییممہا ولیس علیہ غض بصرہ عن ذرا عیہا بخلاف الأجنبی۔(مراقی الفلاح: ص۱۴۰،۱۴۱)۔
(قولہ والفتویٰ علی بطلان الوصیۃ) عزاہ فی الہندیۃ إلٰی المضمرات ’’أی لو أوصٰی بان یصلی علیہ غیر من لہ حق التقدم أو بان یغسلہ فلان لا یلزم تنفیذ وصیتہ الخ (رد المحتار المعروف بالشامیۃ: ج۳، ص۲۲۱)۔
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1