کوئی شخص اپنی زندگی میں ہی کفن خرید سکتا ہے شرعاً جائز ہے؟ کفن خریدتے وقت کن باتوں ( مقدار کے لحاظ سے ) کا خیال رکھنا چاہیے ؟
واضح ہو کسی شخص اپنے لیے زندگی میں ہی کفن خرید نابلاشبہ جائز اوردرست ہے، اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں تاہم کفن خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھے کہ وہ کفن مسنون ہو ، یعنی مرد کے لیے تین چادریں (ازار، قمیص اور لفافہ ) اور عورت کے لیے پانچ چادریں (درع، ازار، خمار ، لفافہ ، خرقہ ) مسنون ہیں، اور اسی مسنون کفن میں اپنے مرُدوں کو کفنانا چاہیے۔
ففي صحيح البخاري: عن سهل رضي الله عنه: «أن امرأة جاءت النبي صلى الله عليه وسلم ببردة منسوجة، فيها حاشيتها» ، أتدرون ما البردة؟ قالوا: الشملة، قال: نعم، قالت: نسجتها بيدي فجئت لأكسوكها، «فأخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا إليها، فخرج إلينا وإنها إزاره» ، فحسنها فلان، فقال: اكسنيها، ما أحسنها، قال القوم: ما أحسنت، لبسها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا إليها، ثم سألته، وعلمت أنه لا يرد، قال: إني والله، ما سألته لألبسه، إنما سألته لتكون كفني، قال سهل: فكانت كفنه اھ (2/ 78)
وفي الدر المختار: ويحفر قبرا لنفسه،وقيل يكره؛والذي ينبغي أن لا يكره تهيئة نحو الكفن بخلاف القبر اھ(2/ 244)
وفي حاشية الطحطاوي: قال البرهان الحلبي والذي ينبغي أنه لا يكره تهيئة نحو الكفن لأن الحاجة إليه تتحقق غالبا بخلاف القبر لقوله تعالى: {وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ} اھ(ص: 616)
وفي الفتاوى الهندية: كفن الرجل سنة إزار وقميص ولفافة وكفاية إزار ولفافة وضرورة ما وجد، هكذا في الكنز(إلی قوله) وكفن المرأة سنة درع وإزار وخمار ولفافة وخرقة يربط بها ثدياها وكفاية إزار ولفافة وخمار اھ (1/ 160)
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1