کیا شوہر یا بیوی ایک دوسرے کی میت کو غسل دینے میں شامل ہوسکتے ہیں یا کیا شوہر یا بیوی کی میت کو چھونا جائز ہے؟ میں نے ایک جگہ دیکھا ہے کہ مرنے کے بعد دونوں کو بالکل اجنبی اور مکمل طور پر غیر محرم سمجھا جاتا ہے اور میت کو دیکھنے اور قریب بھی آنے نہیں دیتے؟ تفصیلی جواب مطلع فرمائیں۔ اللہ پاک آپ کو جزاءِ خیر عطا فرمائے!
بیوی کے فوت ہونے کی صورت میں شوہر بھی دیگر غیر محرموں کی طرح ہوجاتا ہے، البتہ وہ اپنی بیوی کو دیکھ سکتا ہے، مگر اس کی میت کو غسل نہیں دے سکتا، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ شوہر کے فوت ہونے کی صورت میں بیوی اس کے نکاح اور عدت میں ہوتی ہے، اگر کوئی بھی مرد موجود نہ ہو سوائے اس کی بیوی کے، تو وہ اس کی میت کو غسل بھی دے سکتی ہے۔
فی الشامیة: المرأة تغسل زوجها، لأن اباحة الغسل مستفادة بالنكاح فتبقی ما بقی النكاح والنكاح بعد الموت باق إلی ان تنقضی العدة بخلاف ما إذا ماتت فلا یغسلها لانتهاء ملك النكاح لعدم المحل فصار أجنبیا وهذا إذا لم تثبت البینونة بینهما فی حال حیاة الزوج. (ج۲، ص۱۹۹)
فی الهندیة: ویجوز للمرأة أن تغسله زوجها اذا لم یحدث بعد موته ما یوجب البینونة من تقبیل ابن زوجها أو أبیه وان حدث ذلك بعد موته لم یجز لها غسله وأما هو فلا یغسلها عندنا كذا فی السراج الوھاج. (ج۱، ص۱۶۰)
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1