کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جنازہ کے ساتھ چالیس قدم چلنا چاہئے کیا یہ درست ہے؟(۲) اگر کوئی شخص نماز میں قرآن شریف کی تلاوت ،بغیر ہونٹ ہلائے صرف دل میں کرتا ہے تو کیا اس کی نماز درست ہوجائے گی؟
(۱) جنازہ کے ساتھ چالیس قدم چلنے کا نہیں بلکہ اسے اُٹھانے کا تذکرہ کتبِ احادیث میں موجود ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ جو شخص کم از کم ہر پائے سے میت کی چارپائی دس قدم اُٹھائے تو ہر قدم پر اس کے ایک کبیرہ گناہ معاف ہونے کی بشارت دی گئی ہے لہٰذا عوام الناس میں جو محض چالیس قدم چلنا معروف ہے یہ درست نہیں بلکہ چلنا تو قبرستان تک چاہئے اور وہاں جاکر دفن کا معاملہ بھی کرنا چاہئے محض چالیس قدم تک چلنا درست نہیں۔
(۲) بغیر زبان ہلائے محض خیال میں پڑھنے سے نماز درست نہیں ہوتی کیونکہ صحتِ نماز کیلئے حروف کو صحیح طریقہ سے ادا کرنا شرط ہے اور یہ ادائیگی خواہ اتنی آواز سے ہو کہ وہ خود سنے یا خود بھی نہ سنے مگر زبان اور ہونٹوں کی حرکت سے حروف کی ادائیگی ہوجاتی ہو تو صحتِ نماز کیلئے کافی ہے۔
وینبغی أن یحمل من کل جانب عشر خطوات لما روی فی الحدیث من حمل الجنازۃ أربعین خطوۃ کفرت اربعین کبیرۃ۔ (بدائع الصنائع: ج۱، ص۳۰۹)۔
إن فی المسئلۃ ثلاثۃ أقوال قال الکرخی إن القرأۃ تصحیح الحروف وإن لم یکن الصوت بحیث یسمع وقال بشر لابل أن یکون بحیث یسمع وقال الہند وانی لا بد أن یکون مسموعًا لہ زاد فی المجتبی فی النقل عن الہند وانی أنہ لا بجزئہ مالم یسمع أذناہ ومن بقربہ۔ اھـ ونقل فی الذخیرۃ عن الحلوانی أن الأصح ہذا۔(بحر الرائق: ج۱، ص۳۳۷)۔
ثم المنفرد إذا خافت وأسمع أذنیہ یجوز بلا خلاف لو جود القراء ۃ بیقین إذ السماع بدون القرأۃ لا یتصور وأما إذا صحح الحروف بلسانہ وأداہا علی وجہہا ولم یسمع أذنیہ ولکن وقع لہ العلم بتحریک اللسان وخروج الحروف من مخارجہا فہل تجوز صلوتہ اختلف فیہ ذکر الکرخی أنہ یجوز وہو قول ابی بکر البلخی المعروف بالاعمش۔ (بدائع الصناع: ج۱، ص۱۶۱)۔
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1