السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم اساتذہ کرام ! ایک خاتون چاہتی ہیں کہ انہیں ان کے شوہر کے احرام میں کفنایا جائے ، کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے ؟
واضح ہو کہ عورت کے لئے کفنِ مسنون پانچ کپڑے یعنی ازار، قمیص ، لفافہ ،سینہ بند اور اوڑھنی ہیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق عورت کے لئے اپنے شوہر کے حج وعمرہ میں استعمال شدہ احرام کی پرانی چادروں کا کفن بنانا شرعاً جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ اگر یہ چادریں میلی ہوچکی ہوں ، تو انہیں دھو کر صاف ستھری کرلینا چاہئے، کہ کفن صاف ستھرا ہونا پسندیدہ ہے ۔
کما فی الدرالمختار : (ويسن في الكفن له إزار وقميص ولفافة وتكره العمامة) للميت (الی قولہ) (ولها درع) أي قميص (وإزار وخمار ولفافة وخرقة تربط بها ثدياها) وبطنها (وكفاية له إزار ولفافة) في الأصح الخ ( ج2 ص 202 باب صلاۃ الجنازۃ ط سعید)۔
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1