کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص خانۂ خدا کی نسبت ایسے الفاظ کہہ دے جو مناسب نہ ہوں ، الفاظ اس کے یہ ہیں" یہ مسجد نہیں، کنجرخانہ ہےاور یہ شیطانوں کا گھر ہے" ان الفاظ کی وجہ سے یہ شخص مسلمان رہ سکتا ہے یا نہیں ؟اور کیا اس کا نکاح ان الفاظ کی وجہ سے باقی رہ سکتا ہے؟
مسجد شعائر اللہ میں سے ہے اور اس کیلیے مذکور الفاظ استعمال کرنا کفر ہے اور اس کی وجہ سے آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ تا ہم اگر شخصِ مذکور نے یہ الفاظ امامِ مسجد یا متولیانِ مسجد وغیرہ کے ناجائز فعل کی بناء پر کہے ہوں اور مسجد کی تحقیر قطعاً مقصود نہ ہو تو اگرچہ اس صورت میں وہ کافر نہیں بنا اور اس کا عقدِ نکاح بھی باقی ہے، مگر خانۂ خدا کی طرف مذکور ناجائز اور شیطانی الفاظ کی نسبت کرنے کی بناء پر وہ سخت گناہگار ہوا ہے، اُسے چاہیے کہ اپنے مذکور گناہ پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کیلۓ اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے مکمل احتراز بھی کرے۔
فی شرح الفقه الاکبر : و فی تتمة الفتاوی : من استخف بالقرآن او بالمسجد او بنحوہ ممایعظم فی الشرع کفراھ(ص:167)۔
و فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : إذا أنكر آية من القرآن و استخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوه مما يعظم في الشرع أو عاب شيئا من القرآن أو خطئ أو سخر بآية منه كفراھ(2/ 507)۔
و فی بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية و شريعة نبوية : و من استخف بالمسجد أو بنحوه مما يعظم في الشرع كفراھ(2/ 391)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1