محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم :عرض یہ ہے کہ مندرجہ ذیل تفصیلات کی روشنی میں آپ کا قیمتی فتوی درکار ہے ، جناب عالی تقریباً 5 ماہ قبل میرے والدین نے میری رضامندی لے کر مسمیّٰ اطہر عزیز مفتی ولد عبد الوحید سے میری شادی کر دی ، شادی سے قبل مسمیٰ اطہر عزیز مفتی اور ان کے گھر والے بڑے ادب اور انکساری سے ملتے تھے، ان لوگوں کے ظاہری رویہ سے والدین اور دیگر عزیز ان کی طرف سے مطمئن ہوگئے تھے ، لیکن شادی کے پہلے ہی دن سے میرے ساتھ شوہر کا رویہ ایک ذہنی مریض اور متشدد شخص کا سا ظاہر ہوا ، وہ میرے ساتھ نہایت جنسی تشدد اور حیوانی انداز اختیار کرتے ہیں ، اور نہ صرف خود نہایت بے ہودہ اور غیر اخلاقی حرکات کرتے ہیں ، بلکہ مجھے بھی ایسی حرکات کرنے کیلۓ زدوکوب کرتے رہتے ہیں ، نہایت غلاظت پسند ہے ذرا سی بات پر مارپیٹ کرنا معمول ہے ، تو تڑاخ اور گالی کلوچ کے بغیر گفتگو نہیں کرتے ۔
جناب عالی! یہ سب کچھ تو میرے ساتھ کرتے ہی ہیں، مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب اللہ یا رسول کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے ساتھ نہایت بے ادبی والے اور گستاخانہ الفاظ انکے ساتھ جوڑتے ہیں نعتیں پڑھنے میں، اشعار میں فحش اور بےہودہ الفاظ جوڑ کر شعر پڑھتے ہیں۔
عالی جناب! آپ سے دریافت کرنا ہے کہ ایسا شخص جو اللہ اور رسول اللہ کی شان میں فحش اور گستاخانہ الفاظ ادا کرتا ہے،نیز میرے ساتھ اس کا جو غیرانسانی رویہ ہے، یعنی جنسی اور جسمانی تشدد کرکے اذیت و ایذاء دیتا ہے، نیز غیر فطری فعل بزور اور زبردستی کرتا ہے، کیا مسلمان ہے ؟ مجھے یہ بھی بتائیں کہ مجھے اس تشددِ جسمانی ،ذہنی اذیت سے نجات حاصل کرنے کیلۓ کیا کرنا چاہیۓ؟
عالی جناب! میں اپنے شوہر کے پاس ایک بےبس قیدی کی حیثیت سے رہ رہی تھی ، اب کسی نہ کسی صورت سے اپنے والدین کے ہاں آگئی ، اور آپ محترم سے فتویٰ چاہتی ہوں کہ کیا ایسا شخص جو مجھے جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بناتا ہے، غیرفطری عمل بھی کرتا ہے ، مجھے ہرطرح کی جسمانی اور ذہنی ایذاء بھی پہنچاتا ہے ، اس سے میرا نکاح جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کیوں؟ مندرجہ بالا تفصیلات کی وجہ سے میں ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی،مجھے اپنی جان کا بھی خطرہ ہے،ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیۓ؟ اس سلسلے میں آپ کی یہ مظلوم بیٹی آپ کی مدد اور رہنمائی چاہتی ہے ۔ فقط و السلام۔
نوٹ: رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کچھ اس طرح کی ہے کہ ایک نعت ہے اس کا پہلا مصرعہ کچھ یوں ہے :
ہے سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں
لیکن آقا کا منصب جدا ہے۔
وہ پہلے مصرعہ کو بگاڑتے ہوئے ’’عہدے ‘‘ کی جگہ ’’کولہے‘‘پڑھتا ہے ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کا شوہر اپنی ان گستاخیوں کی وجہ سے بلاشبہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکا ہے ، اور اس کا نکاح بھی ختم ہوچکا ہے ، اس لۓ اب اگر سائلہ کا شوہر اپنی ان کفریہ حرکات پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کے بعد تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح نہ کرے تو سائلہ کے لۓ اس کے ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ایسی صورت میں سائلہ ایامِ عدت گزار کر کسی بھی دوسرے صحیح العقیدہ مسلمان شخص کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے ، جبکہ اس شخص کے ارد گرد دیگر متعلقین عزیز و اقارب کو چاہیۓ کہ اسے اپنی ان ناجائز حرکات سے روکیں اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے۔
فی الدر المختار : (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدا و لا تقبل توبته مطلقا ، و لو سب الله تعالى قبلت لأنه حق الله تعالى ، و الأول حق عبد لا يزول بالتوبة ، و من شك في عذابه و كفره كفر ، و تمامه في الدرر في فصل الجزية معزيا للبزازية ، و كذا لو أبغضه بالقلب و تحته فی الشامية و حاصله أنه نقل الإجماع على كفر الساب اھ(4/232)۔
و فی الھندية : و من أتى بلفظة الكفر ، و هو لم يعلم أنها كفر إلا أنه أتى بها عن اختيار يكفر عند عامة العلماء خلافا للبعض ، و لا يعذر بالجهل اھ و فیها ایضاً : الهازل ، أو المستهزئ إذا تكلم بكفر استخفافا و استهزاء و مزاحا يكون كفرا عند الكل، و إن كان اعتقاده خلاف ذلك اھ(2/276)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1