امامت و جماعت

قعدۂ اخیرہ میں امام تشہد کے بعد کھڑا ہو جائے تو سجدہ سہواور مسبوق کی نماز کا حکم

فتوی نمبر :
59840
| تاریخ :
2006-05-15
عبادات / نماز / امامت و جماعت

قعدۂ اخیرہ میں امام تشہد کے بعد کھڑا ہو جائے تو سجدہ سہواور مسبوق کی نماز کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نماز میں اس حالت میں ملا کہ امام رکعت پڑھا چکا تھا یعنی ایک رکعت رہ گئی اور نماز چار رکعت والی تھی، آخری تشہد پڑھنے کے بعد امام سلام پھیرنے کے بجائے کھڑا ہوگیا، لوگوں کے لقمہ دینے اور خود یاد آنے سے امام بیٹھ گیا، اب دریافت یہ کرنا ہے کہ جیسے ہی امام بیٹھے فوراً سجدہ سہو کرے یا بغیر سجدہ سہو کے سلام پھیر کر نماز مکمل کرے؟ اور مسبوق کے لۓ کیا حکم ہے، کیا وہ بھی بیٹھ جائے یا کھڑا رہے اور اپنی نماز پوری کرے؟ اور مسبوق پر بھی سجدہ سہو لازم ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایسی صورت میں امام کو چاہیۓ کہ فوراً لوٹ آئے اور سجدہ سہو کر کے اپنی نماز مکمل کرے ،اور مسبوق پر بھی اس امام کی اقتداء میں لوٹ آنا لازم ہے اور سجدہ سہو میں شرکت اور بعد سلامِ امام کے، اپنی نماز پوری کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاوى الهندية: رجل صلى الظهر خمسا وقعد في الرابعة قدر التشهد إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة عاد إلى القعدة وسلم، كذا في المحيط ويسجد للسهو، كذا في السراج الوهاج اھ(1/ 129)۔
وفی الفتاوى الهندية: والمسبوق يتابع الإمام في سجود السهو ثم يقوم إلى قضاء ما سبق به ولا يعيد في آخر صلاته اھ (1/ 128)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59840کی تصدیق کریں
0     899
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات