امامت و جماعت

اگر مقیم ایک رکعت کے بعد مسافر کی اقتداء کرے تو سلام کے بعد تین رکعتوں میں مسبوق کہلائے گا یا لاحق

فتوی نمبر :
59821
| تاریخ :
2009-07-21
عبادات / نماز / امامت و جماعت

اگر مقیم ایک رکعت کے بعد مسافر کی اقتداء کرے تو سلام کے بعد تین رکعتوں میں مسبوق کہلائے گا یا لاحق

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک مقیم آدمی نے مسافر آدمی کی اقتداء میں نماز شروع کی اس وقت جب مسافر امام ایک رکعت پڑھا چکا تھا، پھر مسافر امام نے دو رکعت کے بعد سلام پھیرا تو مقیم آدمی باقی ماندہ نماز میں مسبوق کے حکم میں ہوگا یا لاحق کے حکم میں ؟ اور بقیہ رکعتوں میں قراءت کرےگا یا نہیں؟ اور اگر قراءت کرنا لازم ہے اور اس نے قراءت نہیں کی تو کیا حکم ہے؟ مدلل وضاحت فرمائیں۔
نوٹ: یہ بھی بتائیں کہ اس صورت میں مقیم اپنی بقیہ نماز کس طرح پوری کرےگا؟ مکمل تفصیل درکار ہے۔ فقط

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس صورت میں مذکور مقتدی مسبوق ’’لاحق ‘‘کے حکم میں ہے، ا س لۓ وہ اپنی آخری دو رکعات لاحق کی طرح یعنی بغیر قراءت کے ادا کرےگا اور پھر مسبوق کی طرح اپنی چھوٹی ہوئی رکعت ثناء، تعوذ، تسمیہ اور فاتحہ وضمِ سورۃ کے ساتھ ادا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: (واللاحق من فاتته) الركعات (كلها أو بعضها) لكن (بعد اقتدائه) بعذر كغفلة ورحمة وسبق حدث وصلاة خوف ومقيم ائتم بمسافر، وكذا بلا عذر؛ بأن سبق إمامه في ركوع وسجود فإنه يقضي ركعة، وحكمه كمؤتم فلا يأتي بقراءة ولا سهو ولا يتغير فرضه بنية إقامة، ويبدأ بقضاء ما فاته عكس المسبوق ثم يتابع إمامه إن أمكنه إدراكه وإلا تابعه، ثم صلى ما نام فيه بلا قراءة، ثم ما سبق به بها إن كان مسبوقا أيضا اھ(1/ 594،595)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59821کی تصدیق کریں
0     1158
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات