امامت و جماعت

امام کا جہری نمازوں میں دورانِ تلاوت سر ہلانا

فتوی نمبر :
59811
| تاریخ :
2005-04-30
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام کا جہری نمازوں میں دورانِ تلاوت سر ہلانا

ایک امام صاحب جہری نمازوں میں قرأت کرتے ہوئے سر ہلاتے ہیں اور مسلسل سر کو حرکت دیتے رہتے ہیں اور ’’ولاالضالین‘‘ کے وقت حرکت اور زیادہ ہو جاتی ہے، جبکہ انہیں کوئی بیماری وغیرہ بھی نہیں ہے، کیونکہ عام حالات اور سری نمازوں میں ان کا سر حرکت نہیں کرتا، اب آیا اس حرکت سے نماز میں کوئی خلل پڑتا ہے یا نہیں؟ اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ ان تمام سوالات کا شرعی حکم بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امام موصوف کا جہری نماز میں بوقتِ جہر مذکور طریقہ پر سر ہلانا اگر چہ محض قرآن کریم کے ساتھ شغف کی بناء پر ہو (جیسا کہ عموماً لوگ تلاوتِ قرآن کریم کے وقت سر ہلاتے ہیں) تو یہ عمل اگرچہ کراہتِ نماز کا سبب نہیں،مگر قصداً دورانِ نماز ایسی عادت اپنانے سے احتراز چاہیۓ۔
اب اگر امام موصوف میں اس کے علاوہ کسی قسم کی کوئی وجہِ کراہت نہ پائی جاتی ہو تو اس حالت میں ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: وأن من لوازمه: ظهور الذل، وغض الطرف، وخفض الصوت، وسكون الأطراف، وحينئذ فلا يبعد القول بحسن كشفه إذا كان ناشئا عن تحقيق الخشوع بالقلب اھ(1/ 641)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59811کی تصدیق کریں
0     931
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات