امامت و جماعت

نماز کےلۓ صف بندی کی مختلف صورتیں اور ان کے احکامات

فتوی نمبر :
59767
| تاریخ :
2006-07-12
عبادات / نماز / امامت و جماعت

نماز کےلۓ صف بندی کی مختلف صورتیں اور ان کے احکامات

۱۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جماعت سے نماز پڑھنے کے دوران اگر کسی وجہ سے کوئی آدمی صف سے نکل جائے تو اس خلا کو کیسے پُر کیا جائے؟ کیا پچھلی صف والے کو چاہیۓ کہ وہ آگے بڑھ کر خلا پر کرے یا جس صف سے نکلا ہے اسی صف والے آپس میں مل کر خلا پر کر لیں؟ خلا پر کرنے کی صورت میں نماز کی صحت پر کوئی اَثر پڑےگا؟ اور اگر پر نہ کیا تو اس کا گناہ کس پر ہوگا؟
۲۔ اگر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں پہلی صف مکمل ہو جائے تو بعد میں آنے والا پچھلی صف میں کہاں کھڑا ہو؟ اور اکیلا کھڑا ہو یا کسی دوسرے کو بھی اگلی صف سے پیچھے ملا کر کھڑا کر ے؟ اور یہ پیچھے کسی خاص جانب سے لائےگا یا مطلقاً؟ مسئلہ کی وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ مذکور دونوں صورتیں جائز ہیں، جبکہ پچھلی صف سے آنے والا مسلسل چل کر نہ آئے، بلکہ قدم گھسیٹ کر اور رُک رُک کر آگے بڑھے۔
۲۔ آخری صف میں امام کی سیدھ میں کھڑا ہو جائےگا، اگلی صف سے کسی کو پیچھے کرنے کی اگرچہ گنجائش ہے، مگر غلبۂ جہالت کی وجہ سے فسادِ صلاۃ کا اندیشہ ہے، اس لۓ تنہا کھڑا ہو جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: مشى مستقبل القبلة هل تفسد إن قدر صف ثم وقف قدر ركن ثم مشى ووقف كذلك وهكذا لا تفسد، وإن كثر ما لم يختلف المكان اھ (1/ 627)
وفیه أیضاً: وينبغي أن يمكث ساعة ثم يتقدم برأي نفسه اھ (1/ 571)
وفی حاشية ابن عابدين: ومتى استوى جانباه يقوم عن يمين الإمام إن أمكنه وإن وجد في الصف فرجة سدها وإلا انتظر حتى يجيء آخر فيقفان خلفه، وإن لم يجئ حتى ركع الإمام يختار أعلم الناس بهذه المسألة فيجذبه ويقفان خلفه، ولو لم يجد عالما يقف خلف الصف بحذاء الإمام للضرورة، ولو وقف منفردا بغير عذر تصح صلاته عندنا اھ(1/ 568) والله أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59767کی تصدیق کریں
0     1338
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات