کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی جماعت کی نماز میں شریک ہوگیا، ایک رکعت اس کی نکل گئی تھی، امام قعدۂ اخیرہ میں بیٹھا نہیں، بلکہ سیدھا کھڑا ہوگیا اور پانچویں رکعت کامل طور پر پڑھنے کے بعد تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دیا تو کیا اس صورت میں مسبوق کی نماز فاسد ہوگی یا اس کو اپنی ایک رکعت پڑھنی چاہیۓ تھی؟
مذکورہ صورت میں امام اور مسبوق سب کی نماز فاسد ہوگئی ہے، اس نماز کا از سرِ نو پڑھنا لازم ہے۔
فی الدر المختار: ولو قام إمامه لخامسة فتابعه، إن بعد القعود تفسد وإلا لا حتى يقيد الخامسة بسجدة. الخ وفی حاشية ابن عابدين: فإن قيدها بسجدة انقلبت صلاته نفلا، فإن ضم إليها سادسة ينبغي للمسبوق أن يتابعه ثم يقضي ما سبق به وتكون له نافلة كالإمام اھ(1/ 599)۔
وفی الفتاوى الهندية: ولو قام الإمام إلى الخامسة فتابعه المسبوق إن قعد الإمام على رأس الرابعة تفسد صلاة المسبوق وإن لم يقعد لم تفسد حتى يقيد الخامسة بالسجدة فإذا قيدها بالسجدة فسدت صلاة الكل. هكذا في فتاوى قاضي خان. (1/ 92)۔