امامت و جماعت

لاوڈ اسپیکر پر درسِ قرآن وحدیث اور نماز وغیرہ کا حکم

فتوی نمبر :
59679
| تاریخ :
2009-07-18
عبادات / نماز / امامت و جماعت

لاوڈ اسپیکر پر درسِ قرآن وحدیث اور نماز وغیرہ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1) لاؤڈ اسپیکر پر قرآن وحدیث کا درس دینا کیسا ہے؟ کیونکہ جب لاؤڈ اسپیکر پر درسِ قرآن دیا جاتا ہے تو بعض لوگ درس سنتے ہیں اور بعض لوگ درس نہیں سنتے ہیں، البتہ عورتیں خصوصاً درسِ قرآن سنتی ہیں، نیز جو لوگ درسِ قرآن کے وقت غسل کر رہے ہوں یا پیشاب کر رہے ہوں تو ان کے لۓ کیا حکم ہوگا؟
نوٹ: تمام لوگ حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
2) جمعۃ المبارک کی تقریر، عیدین وجمعۃ المبارک کا خطبہ اسپیکر پر دینا کیسا ہے؟
3) جمعۃ المبارک، عیدین اور پانچ وقت کی نمازیں اسپیکر میں ادا کرنا کیسا ہے؟براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں مندرجہ بالا مسائل کا تفصیلی جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر بغیر لاؤڈ اسپیکر کے متعلقہ لوگوں تک آواز نہ پہنچتی ہو تو اس پر درسِ قرآن وحدیث اور خطبۂ وجمعہ وعیدین دینا، اسی طرح اسپیکر میں نماز پڑھانا بلاشبہ جائز اور درست ہے اور جو لوگ اپنی مذکور یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے نہیں سن سکتے تو وہ اس سے گناہ گار نہیں ہوں گے ، تاہم نمازیوں کی ضرورت سے زائد آواز کا پیدا کرنا آدابِ مسجد کے خلاف ہونے کی وجہ سے مناسب نہیں، اس لۓ بلاضرورت لاؤڈ اسپیکر یا باہر کے بڑے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنا جس سے یہ عمل اہلِ محلہ کے لۓ پریشانی کا باعث ہو قطعاً درست نہیں، اس سے احتراز اور محض اندرون مسجد اسپیکر چلانے کا اہتمام چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين: بأن الإمام إذا جهر فوق الحاجة فقد أساء اهـ والإساءة دون الكراهة ولا توجب الإفساد اھ(1/ 589)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59679کی تصدیق کریں
0     1542
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات