باغی کانمازِ جنازہ پڑھنا اور اس کو غسل دینا جائز ہے یا نہیں؟ احناف کا اس میں کیا قول ہے؟ روشنی ڈالیں، اس کے ساتھ فاسق وفاجر اور ڈاکو کے بارے میں کیا رائے ہے؟
باغی اگر دورانِ جنگ اور ڈاکو ڈاکہ ڈالتے وقت مارا جائے تو نہ انہیں غسل دیاجائے گا اور نہ ہی ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائےگی اور اگر گرفتار کرنےکے بعد انہیں حدّاً قتل کیا جائے تو اس صورت میں ان پر نمازِ جنازہ پڑھی جائےگی اور انہیں غسل بھی دیا جائےگا، اسی طرح فاسق وفاجر شخص کو بھی غسل دیا جائےگا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائےگی۔
فی الدر المختار: (وهي فرض على كل مسلم مات خلا) أربعة (بغاة، وقطاع طريق) فلا يغسلوا، ولا يصلى عليهم (إذا قتلوا في الحرب) ولو بعده صلى عليهم لأنه حد أو قصاص اھ(2/ 210)۔