امامت و جماعت

مسجد سے کچھ فاصلہ پر صفیں بنانے کی صورت میں اقتداء کا حکم

فتوی نمبر :
59631
| تاریخ :
2004-03-17
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسجد سے کچھ فاصلہ پر صفیں بنانے کی صورت میں اقتداء کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری جامع مسجد میں جمعہ کے دن بارش اور کیچڑ وغیرہ کی وجہ سے لوگ مسجد سے الگ ایک عمارت میں جس کا فرش مسجد سے متصل ہے، لیکن وہ عمارت مسجد سے تقریباً ۲۰ گز فاصلہ پر ہے، وہاں سے امام صاحب کی اقتداء کی اور نمازِ جمعہ ادا کی ، آیا ان کی نماز درست ہوئی ہے یا نہیں؟
اور کبھی رمضان وغیرہ میں رش کی وجہ سے مسجد سے تقریباً ۴، ۵ گز فاصلہ پر ایک پارکنگ ہے وہاں صفیں بنا کر نماز کے لۓ امام صاحب کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں آیا یہ نمازیں بھی درست ہوگئیں؟ جب کہ دونوں صورتوں میں بیچ میں عام گزرگاہ کا کوئی فاصلہ وغیرہ نہیں ہے؟ براہِ کرام جلد جواب عنایت فرما کر سب کی تشفی فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور دونوں صورتوں میں درمیانی فاصلہ زائد ہونے کی بناء پر متعلقہ عمارت اور پارک میں نماز پڑھنے والوں کی اقتداء شرعاً درست نہیں، بلکہ ان دونوں فریقوں کی نماز واجب الاعادہ ہے۔
البتہ متعلقہ پارک اور مسجد کے درمیانی فاصلہ میں بھی اگر صفیں بچھا کر اتصالِ صفوف کر لیا جائے تو اس صورت میں پارک میں نماز پڑھنے والوں کی نماز بھی بلاشبہ درست ادا ہو جائےگی، جبکہ دوسری صورت میں بھی ایسے ہی لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في الدر المختار: (ويمنع من الاقتداء) صف من النساء بلا حائل قدر ذراع أو ارتفاعهن قدر قامة الرجل مفتاح السعادة أو (طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور (أو نهر تجري فيه السفن) ولو زورقا ولو في المسجد (أو خلاء) أي فضاء (في الصحراء) أو في مسجد كبير جدا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر إلا إذا اتصلت الصفوف فيصح مطلقا، كأن قام في الطريق ثلاثة، وكذا اثنان عند الثاني لا واحد اتفاقا لأنه لكراهة صلاته صار وجوده. كعدمه في حق من خلفه.اھ
وفي رد المحتار: (قوله إلا إذا اتصلت الصفوف) الاستثناء عائد إلى الطريق والنهر دون الخلاء لأن الصفوف إذا اتصلت في الصحراء لم يوجد الخلاءتأمل، وكذا لو اصطفوا على طول الطريق صح إذا لم يكن بين الإمام والقوم مقدار ما تمر فيه العجلة، وكذا بين كل صف وصف كما في الخانية وغيرها.اھ (1/ 584)۔
وفی الطحطاوی: وأن لایفصل بین الإمام والماموم نہر یمر فیه الزوروق (إلی قوله) ولا طریق تمر فیة العجلة ولیس فیه صفوف متصلة ولامنع فی الصلاة فاصل یسع فیه صفین علی المفتی بهاھ (۱/ ۱۵۹)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59631کی تصدیق کریں
0     1688
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات