کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ ایک مرتبہ نمازِ فجر پڑھنے کیلئے گیا اور بندہ نے نمازِ فجر پڑھنے کیلئے وضو کرلیا اور نماز پڑھنے کیلئے تیار ہوگیا اس کے بعد بندہ کو معلوم ہوا کہ بندے کا کپڑا خراب ہے(یعنی حالتِ جنابت میں تھا) اور مسجد میں نماز پڑھانے کیلئے کوئی امام موجود نہیں تھا اور لوگوں نے کہا کہ نماز پڑھانے کیلئے حافظ کو بلایا جائے اور بندہ نے مجبور ہوکر نمازِ فجر پڑھالی اور بندہ نے شرم کے مارے لوگوں کو یہ کہہ نہیں سکا کہ بندہ نماز نہیں پڑھاسکتا۔
اس کے لئے اب کیا کرنا ہوگا بندہ نے تعلیم الاسلام (جلد ۲، صفحہ ۲۳) میں دیکھا کہ ’’اگر کوئی شخص بغیر وضو کے نماز میں قیام کرلے تو اس شخص کو کافر قرار دیا جائے گا‘‘ اس بات سے اگر بندہ کافر ہوگیا ہے تو بندہ کیلئے کیا رائے ہے اور اگر کافر نہیں ہوا تو بندہ کو اس نماز کیلئے کیا کرنا پڑے گا؟ یہ مسئلہ ہوئے تقریباً دو، تین ہفتے ہوگئے ہیں اگر کوئی کفارہ ہو تو بتائیے یا یہ نماز دوبارہ لوٹانی پڑے گی؟ کوئی بھی رائے ہو تو بتائیے، آپ کی عین نوازش ہوگی۔
مذکور بندہ پر لازم ہے کہ دن کی تعین کے ساتھ لوگوں کو اعادۂ صلوٰۃ کیلئے اعلان کرے اور اپنے مذکور فعلِ قبیح پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے تاہم اگر اس نے مذکور حرکت استخفاف اور استہزاء کے طور پر نہ کی ہو تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوا، مگر آئندہ کیلئے اس پر اس قسم کے قبیح حرکت سے مکمل احتراز لازم ہے۔
وفی البحر الرائق: ولو ام قوما محدث او جنب ثم علم بعد التفرق یجب الاخبار بقدر الممکن بلسانہ او کتاب او رسول علی الاصح۔ اھـ (ج۱، ص۳۶۶)۔