امامت و جماعت

حدود و قیود کی پابندی کے ساتھ عورتیں مرد امام کے پیچھے نمازِ تراویح پڑھ سکتی ہیں؟

فتوی نمبر :
59504
| تاریخ :
2003-02-02
عبادات / نماز / امامت و جماعت

حدود و قیود کی پابندی کے ساتھ عورتیں مرد امام کے پیچھے نمازِ تراویح پڑھ سکتی ہیں؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نمازِ تراویح کیلئے عورتیں مرد کے پیچھے اس صورت میں نمازِ تراویح پڑھیں کہ :
(۱) مرد چار یا پانچ آدمیوں کو نمازِ تراویح پڑھائے اور عورتیں بھی اسی امام کے پیچھے نمازِ تروایح پڑھیں۔
(۲) مرد اور عورتوں کے درمیان یا تو کوئی دیوار حائل ہو یا پردہ موجود ہو۔
(۳) اور عورتیں قرآن سننے کے لئے اپنے شوق سے آئی ہوں اور نمازِ تراویح کی کسی کو دعوت بھی نہ دی گئی ہو۔
(۴) اور ان میں بوڑھی اور جوان عورتیں بھی شامل ہوں۔
(۵) اور امام اپنی فرض نماز جامع مسجد میں ادا کرنے کے بعد صرف نمازِ تراویح پڑھانے کیلئے آئے۔
(۶) اور امام نے ان کی نیت بھی کی ہو۔
تو کیا امام کا اس صورت میں نمازِ تراویح پڑھانا اور ان عورتوں کا اس امام کی اقتداء میں نمازِ تراویح پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور طریقہ سے عورتوں کا تراویح کی جماعت میں شریک ہونا اگرچہ جائز اور درست ہے مگر عورتوں کا محض جماعت میں شریک ہونے کی غرض سے گھر سے نکلنا اچھا نہیں، اس سے احتراز چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (کما تکرہ امامۃ الرجل لہن فی بیت لیس معہن رجل غیرہ و لا محرم متہ) کاختہ (او زوجتہ او امتہ، اما اذا کان معہن واحد ممن ذکر او امہن فی المسجد لا) یکرہ بحر۔( ج۱، ص۵۴۴)۔
و فی البحر الرائق : و کذٰلک یکرہ ان یوم النساء فی بیت و لیس معہن رجل و لا محرم منہ مثل زوجتہ و امتہ و اختہ فان کانت واحدۃ منہن فلا یکرہ و کذٰلک اذا أمہن فی المسجد لا یکرہ و اطلاق المحرم علی من ذکر تغلیب و الا فلیس ہو محرمًا لزوجتہ و أمتہ۔( ج۱، ص۳۵۲)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59504کی تصدیق کریں
2     2569
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات