کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام صاحب فیکٹری کی مسجدمیں تین نمازیں یعنی ظہر، عصر، مغرب پڑھاتے ہیں اور اس مسجد میں عشاء اور فجر کی نماز لوگوں کے نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی، آیا اس مسجد میں جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ جمعہ کی نماز میں لوگوں کی تعداد دو سو سے اوپر ہوتی ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
کسی جگہ نمازِ جمعہ و عیدین کے قیام کیلئے پنجوقتہ نماز باجماعت کا قیام ضروری نہیں بلکہ اس جگہ کا شہر یا اس کے متصل اس آبادی کا ہونا شرط ہے جس کی ضروریاتِ زندگی شہر کے ساتھ اور شہر والوں کی اس بستی کے ساتھ منسلک ہوں (جسے اصطلاحِ فقہاء میں فناءِ مصر سے تعبیر کیا جاتا ہے) لہٰذا مذکور مسجد بھی اگر کسی ایسے مقام پر واقع ہے تو اس میں نمازِ جمعہ کا قیام بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ احتراز واجب ہے۔
وفی الہدایۃ: لا تصح الجمعۃ الا فی مصر جامع او فی مصلٰی المصر ولا تجوز فی القریٰ لقولہ علیہ السلام لا جمعۃ ولا تشریق ولا فطر ولا اضحٰی الا فی مصر جامع والمصر الجامع کل موضع لہ امیر وقاضٍ ینفد الاحکام ویقیم الحدود۔ (ج۱، ص۱۲۴)۔